خطبات محمود (جلد 19) — Page 47
خطبات محمود ۴۷ سال ۱۹۳۸ء اور ایسے ہی موقع کیلئے یہ حکم ہے کہ لا يَضُرُ كُم من ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ، جب خرابی عام ہو جائے تو انسان کو اپنے ایمان کے بچانے کی فکر کرنی چاہئے۔اُس وقت اپنے ایمان کا بچانا ہی مقدم ہوتا ہے کیونکہ عام خرابیوں کو اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور مامورین ہی دور کر سکتے ہیں۔اگر عام خرابی کی اصلاح کی افراد کوشش کریں تو اس کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہ ہو گا کہ وہ خود بھی ڈوب جائیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کبھی ایسا وقت آئے تو تم علیحدہ کی رہ کر اپنا ایمان بچاؤ۔پس قومی اخلاق کی درستی ایک ایسی چیز ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اگر قوم میں جھوٹ عام ہو تو انسان خود خواہ کتنا ہی سچا کیوں نہ ہو اور وہ اس عام خرابی سے اپنے آپ کو کتنا ہی کیوں نہ بچائے ، اس کی اولا دضرور جھوٹ بولنے لگ جائے گی کیونکہ بچے اپنے ساتھ کھیلنے والوں سے اخلاق سیکھتے ہیں۔انہیں عمر اور تربیت کے لحاظ سے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے سے تو روکا نہیں جاسکتا۔اگر انہیں گھروں میں بند کر کے رکھا جائے تو وہ سل کا شکار ہو جائیں گے اور اگر آزادی دی جائے تو اخلاق خراب ہوں گے۔گویا دونوں صورتوں میں خاندان کی موت ہی موت ہے۔پس اس کی یہی صورت ہوسکتی ہے کہ قومی اخلاق کی درستی کیلئے کوشش کر کے انہیں بچایا جائے اور یہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب ہر ماں اور ہر باپ اپنی ذمہ داری کو سمجھے لیکن اگر یہ خیال کر لیا جائے کہ ہماری اولاد کی ذمہ داری ناظر تعلیم و تربیت پر ہے تو ایسی قوم آج بھی ڈوبی اور کل بھی ڈوبی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِه۔یعنی تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا۔اور اس کی تشریح آپ نے یوں فرمائی کہ گھر کا مالک راعی ہے اور اس کے بیوی بچوں کے متعلق اس سے سوال کیا جائے گا۔پس قومی اخلاق کی درستی کیلئے ہر فرد کا اس حیثیت کو اچھی طرح سمجھ لینا کہ وہ راعی ہے اور اس کی رعیت کے متعلق اُس سے سوال کیا جائے گا بہت ضروری ہے اور تمام افرادکو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کے سامنے ایسی پود اور ایسی نسل پیش کریں جو سچائی اور دیانت کی پابند اور محنت سے کام کرنے والی ہو۔اور جو شخص یہ احساس