خطبات محمود (جلد 19) — Page 454
خطبات محمود ۴۵۴ سال ۱۹۳۸ء جو دوسرے کے سہارے کا محتاج ہے وہ ہر وقت خطرہ میں ہے۔اصل سہارا اللہ تعالیٰ کا ہی ہے جو کام آسکتا ہے۔پس ہر فردِ جماعت اپنے اندر یہ احساس پیدا کرے کہ سلسلہ کی ترقی مجھ پر منحصر ہے۔اور جب بچوں ، جوانوں، بوڑھوں اور مردوں وعورتوں میں یہ احساس پیدا ہو جائے تو پھر تمہیں کوئی قوم ہلاک نہیں کر سکتی اور شیطان تم پر حملہ آور نہیں ہو سکتا۔جب انسان کے اندر غیرت پیدا ہو جائے تو وہ بڑے سے بڑے دشمن کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔اس کے دل سے ڈرمٹ جاتا ہے یہی حال محبت کا ہے۔ان دونوں کے ہوتے ہوئے خوف کبھی انسان کے پاس نہیں آسکتا۔چھوٹے بچوں کو دیکھ لو، کوئی مضبوط جوان آدمی ان پر حملہ کرتا ہے تو وہ ڈر کر بھاگتے ہیں مگر کبھی مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور مقابلہ کر لیتے ہیں۔اس لئے وہ ارادہ کر لیتے ہیں۔اور ارادہ کی مضبوطی سے قومی کی مضبوطی بھی حاصل ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یا آپ کے قریب کے زمانہ میں ہی یہاں ایک استانی پاگل ہو گئی۔حضرت خلیفہ اصبح الا ول درس دے رہے تھے اور ہمارے مکان کی جو مشرقی ڈیوڑھی ہے کی اُس کی طرف جو گلی مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کی طرف جاتی ہے اُس کی کھڑکی کھول کر اس میں گودنا چاہتی تھی کہ حضرت خلیفہ اول کی نظر پڑ گئی اور آپ نے جھٹ اسے پکڑ لیا۔حضرت خلیفہ اول کو اپنی طاقت اور زور کا دعوی ہوا کرتا تھا۔بعض اوقات آپ اپنا ہاتھ آگے پھیلا دیتے تھے اور کسی بڑے مضبوط آدمی سے فرماتے کہ اسے ذرا ٹیڑھا تو کرو۔مگر اپنی اس طاقت اور زور کے دعوئی کے باوجود جب آپ نے اس پاگل عورت کو پکڑا تو باوجود یکہ وہ دبلی پتلی تھی اُس نے ایسا زور کیا کہ آپ کو خطرہ محسوس ہونے لگا کہ میں بھی ساتھ نہ گر جاؤں اور آپ نے درس والی عورتوں کو مدد کے لئے بلایا۔چنا نچہ آٹھ دس عورتوں نے مل کر آدھ گھنٹے میں اُسے باندھا۔اس عورت کی تندرستی کی حالت میں حضرت خلیفہ اول اگر اُس عورت کو ہاتھ سے ذرا سا بھی جھٹکا دیتے تو کتنے ہی فاصلہ پر جا کر گرتی لیکن جنون کی حالت میں خوف چونکہ ڈب گیا تھا اور وہ اپنی طاقت کو انتہائی طور پر استعمال کرنے پر آمادہ تھی اس لئے آٹھ دس عقلمندوں نے مل کر بمشکل اُس پر قابو پایا۔ایمان بھی ایک قسم کا جنون ہوتا ہے۔کوئی نبی ایسا نہیں آیا جسے مجنون نہ کہا گیا ہو اور اس کی