خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 426

خطبات محمود ۴۲۶ سال ۱۹۳۸ یقین او ر وثوق سے خلافت کے ساتھ وابستہ ہے جس کے افراد خلیفہ کی حکومت تسلیم کرنا اپنے کی ایمان کا جز و قرار دیتے ہیں، جو اس کے ہر قول اور فعل پر ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ، جو اس میں خدا کے وجود کو دیکھتے اور خدا کے وجود میں اسے دیکھتے ہیں، جو اس بات پر یقین اور ایمان رکھتے ہیں کہ اگر خلیفہ وقت کی دعا اور اس کی برکت ہمیں حاصل ہو جائے تو یہ ہماری نجات کا ذریعہ ہو گا۔ان لوگوں کے خیالات کو یکسور کھنے اور انہیں غلط راستہ پر پڑنے سے بچانے کے لئے یہ ضروری تھا کہ اس موقع پر کوئی ایسا طریق عمل اختیار کیا جاتا جس کے نتیجہ میں وہ اس غلط نہمی میں مبتلا نہ ہو جاتے کہ اگر ہم نے ناجائز طور پر کسی کو قتل بھی کر دیا تو خلیفہ وقت کی برکت اور اس کی دعا ہمیں حاصل ہو جائے گی۔پس آئندہ فتنہ کا سد باب کرنے اور اپنی جماعت کے نوجوانوں کے ایمانوں کو بچانے کے لئے میں نے میاں عزیز احمد صاحب کا جنازہ نہیں پڑھایا تا میرے جنازہ پڑھانے کے نتیجہ میں لوگوں کے دلوں میں غلط خیال پیدا نہ ہو جائے کہ چلو خلیفہ جنازہ تو پڑھا دیتا ہے اگر ہم نے کوئی ایسی حرکت کر لی تو ان کا جنازہ تو بہر حال ہمیں نصیب ہو جائے گا:۔پس میرا جنازہ نہ پڑھنا آئندہ فتنہ کے سدباب کے لئے تھا اور درحقیقت میں نے ان معترضین کی خاطر ایسا کیا۔مگر میں نے تو ان پر اتنا بڑا احسان کیا اور وہ اُلٹا مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ میں نے میاں عزیز احمد صاحب کا جنازہ کیوں نہ پڑھا۔حالانکہ میرا مقصد اس سے یہ تھا کہ احرار اور مخرجین میں سے جو لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور جو کوئی ہفتہ نہیں جاتا کہ نا قابل برداشت الفاظ ہمارے متعلق استعمال نہیں کرتے ، ان پر آئندہ ہماری جماعت کا کوئی جوشیلا شخص محض اس خیال کے ماتحت حملہ نہ کر دے کہ اگر میں نے کسی کو قتل بھی کر دیا تو کم از کم خلیفہ کی دعا اور اُس کا جنازہ مجھے نصیب ہو جائے گا۔پس میں نے میاں عزیز احمد صاحب کا جنازہ نہیں پڑھایا اور اس لئے نہیں پڑھایا کہ دوسرے لوگ یہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ جو شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا اور انتہائی اشتعال کی حالت میں بھی کسی کو قتل کر دیتا ہے خلیفہ وقت اُس کا جنازہ پڑھنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی کہے کہ پھر قاضی محمد علی صاحب سرحدی کا جنازہ کیوں پڑھا یا حالانکہ وہ بھی ایسے ہی