خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 418

خطبات محمود ۴۱۸ سال ۱۹۳۸ء جیسے گزشتہ سے پیوستہ سال جب ایک لڑکے نے چوری کی اور اس پر فتنہ اٹھا تو اُس وقت اس چورلڑکے کے رشتہ داروں کے خلاف ہمیں یہ غصہ نہیں تھا کہ وہ اس کی مدد کیوں کرتے ہیں بلکہ ہم ان پر اس لئے ناراض تھے کہ ان میں سے بعض اس سے جھوٹ بلوانا چاہتے تھے حالانکہ ہمارے سامنے وہ چوری کا اقرار کر چکا تھا۔تو جس چیز کو ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا وہ کی جھوٹ اور فریب ہے۔اگر یہ نہ ہو تو سچائی اور دیانت سے ہر شخص کو ملزم کی امداد کرنے کا حق حاصل ہے۔ہاں فیصلہ ہو جانے کے بعد ہم اس کا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ فیصلہ کے خلاف منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکالے اور قاضی پر کوئی الزام نہ لگائے۔البتہ اسے یہ حق ہے کہ قضاء کے ذریعہ سے قاضی کے فیصلہ کو غلط ثابت کرے یا اگر قاضی کی بددیانتی ثابت ہو تو اس کے خلاف با قاعدہ دعوی کرے مگر یہ حق نہیں کہ پبلک میں اس کے خلاف شور مچاتا پھرے۔مجھے یاد ہے کہ ایک عورت سال بھر ہمارے گھر میں آتی رہی اور بار بار مجھ سے کہتی کہ میرے مقدمہ کا قضاء والے فیصلہ نہیں کرتے۔میں نے کئی دفعہ دفتر والوں کو توجہ دلائی اور وہ کی ہمیشہ مجھے یہ کھیں کہ ہم نے فیصلہ کر دیا ہے مگر جب اس عورت سے ذکر کیا جا تا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے مقدمہ کا فیصلہ کر دیا ہے تو وہ کہتی کہ بالکل جھوٹ ہے۔کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔آخر جب متواتر اس نے یہی کہا کہ کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور دفتر والے جھوٹ بولتے ہیں تو اس وقت میں نے کی سمجھا کہ اب یہ اختلاف اس قدر واضح ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ سورج نکلا ہوا ہے اور کوئی کہے کہ ابھی رات ہے۔چنانچہ میں نے دفتر سے مسل منگوائی۔جب مسل آئی تو میں نے دیکھا کہ اس کے ہر جھگڑے کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔میں اس وقت حیران رہ گیا کہ یہ عورت سال بھر مجھ سے اتنا جھوٹ بولتی رہی حالانکہ اس کی کوئی بات نہیں تھی جس کا دفتر والوں نے کوئی فیصلہ نہ کیا ہوا ہو۔پھر ایک دن وہ آئی تو میں نے اسے کہا۔میں نے مسل منگوا کر دیکھی ہے اور شروع سے لے کر آخر تک دیکھی ہے اس پر تمہارے مقدمہ کا فیصلہ ہر مرحلہ پر فیصلہ ہو چکا ہے اور تم کہتی ہو کہ دفتر والوں نے کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا۔وہ کہنے لگی کہ یہ بھی کوئی فیصلے ہیں یہ تو میرے خلاف ہیں۔میں نے کہا کہ ہاں یہ ٹھیک ہے چونکہ یہ فیصلے تمہارے خلاف ہیں اس لئے تمہارے نزدیک یہ کوئی فیصلے ہی نہیں ہیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس وقت بھی وہ اپنی ذہنیت کے لحاظ سے