خطبات محمود (جلد 19) — Page 399
خطبات محمود ۳۹۹ سال ۱۹۳۸ء فعل کا ارتکاب کیا ہے۔اب اگر الزام کے لگنے کے ساتھ ہی وہ مجرم بھی بن جاتا ہے تو لازماً ہر وہ وکیل جو اس کی طرف سے عدالت میں پیش ہو گا گنہگار ہوگا۔اب تم ایسی گورنمنٹ فرض کر کے خود ہی سوچ لو کہ کیا اس سے امن قائم ہو جائے گا یا فساد ہی فساد بڑھتا چلا جائے گا۔فرض کرو تم ایک دن خاموشی کے ساتھ بازار سے گزر رہے ہو اور کوئی بدمعاش دکاندار تمہیں سادہ لوح سمجھ کر شور مچا دیتا ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تم نے اس کی دکان سے مال اٹھایا ہے اور اس کی غرض یہ ہے کہ ڈر کر تم اسے کچھ روپے دے دو مگر تم اسے روپیہ نہیں دیتے اور مقدمہ عدالت میں چلا جاتا ہے۔تو اب بجائے اس کے کہ اس ظلم کا ازالہ کیا جائے جو تم پر کیا گیا ہے اور تمہاری شرافت کی تائید کی جائے اگر اس اصل کے تحت کہ مُجرم محض مقدمہ کر دینے سے ثابت ہو جاتا ہے تمہاری مدد سے ہاتھ کھینچ لیا جائے اور کہنا شروع کر دیا جائے کہ جو وکیل بھی تمہاری طرف سے پیش ہوگا کی وہ گنہگار ہوگا کیونکہ وہ ایک ملزم کی حمایت کرتا ہے تو کیا یہ درست طریق عمل ہوگا اور کیا تمہارا کی جی چاہے گا کہ یہی اصل تمام دنیا میں رائج ہو جائے۔اور اگر کوئی شخص اپنی نادانی سے سمجھتا ہے کہ اسلام کا یہی منشاء ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ نَعُوذُ بِاللہ اسلام ہر شریف آدمی کی پگڑی اچھال لینے کی تائید کرتا اور مظلوموں کی امداد کو گناہ قرار دیتا ہے۔تو کسی ملزم کو مجرم قرار دینا حماقت کی بات ہوتی ہے۔ملزم کے معنی صرف اتنے ہیں کہ اس پر کوئی الزام لگایا گیا ہے ، آگے وہ الزام سچا ہے یا جھوٹا ، یہ بعد میں ثابت ہوگا۔اسی لئے قانونی کی طور پر مجرم اور ہوتا ہے اور ملزم اور ، جب تک مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوتا۔اور جب اس کے خلاف فیصلہ ہو جاتا ہے تو وہ مجرم ہوتا ہے۔عربی میں بھی یہ دونوں اصطلاحیں رائج ہیں۔چنانچہ ملزم اسے کہتے ہیں جس پر الزام لگایا گیا ہو اور مجرم اسے کہتے ہیں جس کے متعلق کسی جرم کا اثبات ہو چکا ہو۔تو جب تک عدالت مقدمہ کا فیصلہ نہیں کرتی یا کسی اور ذریعہ سے انکشاف حقیقت نہیں ہوتا اس وقت تک ملزم مجرم نہیں ہو سکتا۔اور جس کی مدد سے اسلام روکتا ہے اور جس کی تائید سے ہر شریف آدمی بچتا ہے اور وہ ملزم نہیں بلکہ مجرم ہے۔اگر ملزموں کی مدد سے اسلام روکتا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ مظلوموں کی مدد کرنے سے روکتا ہے حالانکہ یہ درست نہیں۔یہ تو اصولی جواب ہے جو میں نے دیا۔لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ معترض اپنے گھر کی بات بھی تو