خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 381

خطبات محمود ۳۸۱ سال ۱۹۳۸ء ثابت ہے کہ غیرت چار صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں ظاہر ہونی چاہئے۔اگر جائز ہو اور طاقت ہو تو ہاتھوں سے اس فعل کو مٹا دیا جائے لیکن اگر طاقت نہ ہو یا مقابلہ کی اجازت نہ ہو تو زبان سے اردگرد کے لوگوں کو صداقت سے آگاہ کر دیا جائے اور اگر ایسا کرنے کی بھی طاقت نہ ہو تو اس مجلس سے اٹھ کر چلے جانا چاہئے جس میں شعائر اللہ کی ہتک ہو رہی ہوا اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو کم سے کم نیکی یہ ہے کہ دل میں ہی نفرت کا اظہار کیا جائے۔یہ چار مواقع ہیں جو اسلام نے غیرت دکھانے کے لئے بیان کئے ہیں اب اس تفصیل کے بعد صاف معلوم ہو سکتا ہے کہ قادیان کے لوگوں پر اس وجہ سے جو پشاور کے دوست نے بیان کی ہے بے غیرتی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔یعنی اس وجہ سے کہ انہوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا ان کو بے غیرت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ میں نے بے غیرتی کی جو تفصیل بیان کی ہے اس میں بتا چکا ہوں کہ اسلامی اصول کے ماتحت جس چیز کو مٹانے کی طاقت ہو یا اس کا مٹانا جائز ہوا سے بیشک مٹادینا چاہئے لیکن اگر طاقت نہ ہو یا جائز نہ ہو تو اس کے لئے دوسرا حکم ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا قانون کو ہاتھ میں لینا جائز ہے اور کی کیا اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ قانون کو اگر اپنی مرضی کے خلاف پاؤ تو اسے توڑ دو۔اگر تو یہی تعلیم ہے تو بے شک قادیان کے لوگوں پر بے غیرتی کا الزام لگایا جا سکتا ہے لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ قانون کو ہاتھ میں نہ لو۔تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کو بے غیرتی کہنا درست نہیں اور جس نے اس تعلیم کو درست سمجھتے ہوئے اس پر عمل کیا۔اسے بے غیرت قرار دینا بڑا ظلم ہے۔میں مانتا ہوں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو سمجھتے ہیں کہ ایسے موقع پر قانون کو توڑ دینا جائز ہے۔ایسے لوگ شریعت اور احمدیت کی رو سے غلط عقیدہ رکھنے والے ہیں لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کی رو سے بے غیرت ہیں۔غرض چونکہ شریعت نے حکم دیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں مت لو اور ہاتھ مت اٹھاؤ۔جو اس پر عمل کرتا ہے وہ بے غیرت نہیں کہلا سکتا لیکن جو ہاتھ اٹھانے کو جائز سمجھتا ہے اور نہیں اٹھاتا ، وہ اپنے عقیدہ کی رو سے بے شک بے غیرت ہے لیکن شریعت کی رو سے پھر بھی بے غیرت نہیں۔کیونکہ شریعت