خطبات محمود (جلد 19) — Page 351
خطبات محمود ۳۵۱ سال ۱۹۳۸ء ذریعہ تھا اس سے اس نے کام لے لیا۔پس اس کو مار پیٹ کر تو نے اسے نہیں بلکہ ہمیں دکھ دیا چی ہے جا اور اس کو راضی کر۔اب دیکھو بظاہر یہ کتنے برے لفظ ہیں۔خدا تو الگ رہا ایک معمولی رئیس کے متعلق بھی اگر ایسے الفاظ استعمال کئے جائیں اور کہا جائے کہ کاش میں تیری جوئیں نکالا کروں۔تو وہ کہنے والے پر سخت ناراض ہوگا۔اور کہے گا کیا تو چاہتا ہے میں عقل و ہوش بالکل کھو بیٹھوں اور اتنا گندہ ہو جاؤں کہ سر میں جوئیں پڑ جائیں اور پھر اس قدر عاجز اور لاچار ہو جاؤں کہ کسی دوسرے کو صفائی کرنی پڑے۔لیکن خدا تعالیٰ کے حضور وہ الفاظ چونکہ ایک ایسے شخص کے تھے جس کی نیت صاف تھی اور وہ اپنے مافی الضمیر کو کسی اور رنگ میں ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا اس لئے وہ قبول ہو گئے۔اس سے زیادہ سے زیادہ یہی مطالبہ کیا جا سکتا تھا کہ جن بہترین کی الفاظ میں وہ محبت کا اظہار کر سکتا ہے ان الفاظ میں وہ خدا تعالیٰ کے متعلق محبت کا اظہار کرتی دے۔سو اس نے اس مطالبہ کو پورا کر دیا۔اس کے پاس محبت ظاہر کرنے کا یہی طریق تھا کہ پاؤں میں سے کانٹے نکالے ، بکریوں کا دودھ پلائے۔سر میں سے جوئیں نکالے، پس اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہوئے اس نے یہی طریق اختیار کیا اور کہنا شروع کر دیا اے اللہ ! اگر تو مجھے مل جائے تو میں تجھے نہلاؤں ، تیری گدڑی صاف کروں ، تیرے سر میں سے جوئیں نکالوں، تجھے تازہ تازہ دودھ پلاؤں اور تو سو جائے تو تیرے ہاتھ پاؤں دباؤں اور چونکہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کی مقدار کو نہیں دیکھتا بلکہ قلب کی حالت کو دیکھتا ہے اس لئے اس نے ان الفاظ کو قبول کر لیا۔پھر بندوں کا کیا ذکر ہے ہم تو دیکھتے ہیں خدا تعالیٰ بھی ایسے الفاظ استعمال کر لیتا ہے اور قرآن کریم اس قسم کے الفاظ سے بھرا پڑا ہے۔کہیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا ذکر آجاتا ہے، کہیں اس کی آنکھوں کا ذکر آجاتا ہے، کہیں اس کی پنڈلیوں کا ذکر آجاتا ہے اور حدیثوں میں تو خدا تعالیٰ کے بہت سے اعضاء کا ذکر آتا ہے۔اب ان الفاظ کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ بھی نَعُوذُ بالله انسان کی طرح ہے یا اس کی بھی گردن ہے، چہرہ ہے ، ناک ہے، منہ ہے ، کان ہیں، دانت ہیں، زبان ہے،حلق ہے ، سینہ ہے ، دل ہے ، پھیپھڑے ہیں ، گردے ہیں، جگر ، تلی معدہ انتڑیاں ہیں۔یہ مراد ہر گز نہیں بلکہ چونکہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھ نہیں سکتا اس لئے بندوں کو