خطبات محمود (جلد 19) — Page 339
خطبات محمود ۳۳۹ سال ۱۹۳۸ء میں نے تحریک جدید کے سلسلہ میں جلسوں کے انعقاد کا اعلان اس سال کیلئے نہیں کیا کیونکہ میں نے محسوس کیا تھا کہ یہ جلسے بھی رسمی ہو کر رہ گئے تھے۔لوگ شوق سے شریک نہیں ہوتے تھے۔جہاں ساٹھ ستر احمدی ہوئے ان میں سے چند ایک آگئے۔میں غور کر رہا تھا کہ اس نقص کا ازالہ کس طرح کیا جائے۔چنانچہ اس کی اصلاح کی تجاویز پر غور کرنے کے بعد میں نے مناسب سمجھا کہ تحریک جدید کے الگ سیکرٹری ہوں جن کے سامنے خاص یہی کام ہو۔ایک سیکرٹری عام تحریکات کیلئے ہو اور دوسرا سیکرٹری چندوں کیلئے ہو اور ان کا فرض ہو کہ اس تحریک سے نہ صرف جماعت کے ہر مرد کو بلکہ عورتوں اور بچوں کو بھی واقف کریں۔اگر چہ اب تک ساری کی جماعتوں نے سیکرٹری مقرر نہیں کئے مگر ایک معتد بہ حصہ نے سیکرٹری مقرر کر دیئے ہیں اس لئے اب میں اعلان کرتا ہوں کہ جولائی کے آخری ہفتہ میں جو اتوار آئے ( یہ ۳۱ / جولائی کا دن ہوگا ) اس میں تحریک جدید کے جلسے کئے جائیں اور اس دوران میں متواتر جلسے ہوتے رہیں جن کی میں اس جلسہ میں لوگوں کو شامل ہونے کیلئے تیار کیا جائے۔اس عرصہ میں کم سے کم تین جلسے کی تو ضروری کئے جائیں۔ایک مردوں کیلئے ، ایک عورتوں کیلئے اور ایک بچوں کیلئے۔پس سیکرٹریان تحریک جدید کا یہ فرض ہے کہ جس میں اگر دوسرے سیکرٹری بھی مدد دیں تو وہ بھی ثواب میں شریک ہو جائیں گے کہ اس بڑے جلسہ تک کم سے کم تین جلسے ایسے کرا دیں جن میں سے ایک خالص عورتوں کیلئے ، ایک خالص مردوں کیلئے اور ایک خالص بچوں کیلئے ہو اور ان میں علیحدہ علیحدہ وہ حصے بیان کئے جائیں جو ان سے تعلق رکھتے ہوں۔اگر زیادہ جلسے ہو سکیں تو اور کی بھی اچھا ہے۔جب جماعت کے ان تینوں حصوں کو اچھی طرح تحریک جدید کی اغراض سے واقف کر دیا جائے گا تو پھر بڑا جلسہ کیا جائے اور اس صورت میں امید ہے کہ جماعت کے تمام افراد میں خاص جوش پیدا ہو چکا ہوگا اور وہ اس کی اہمیت سمجھ لینے کی وجہ سے خاص طور پر اس میں حصہ لینے کیلئے تیار ہوں گے اور اس آخری بڑے جلسہ کا جو خواہ مرد عورت کا بالالتزام پردہ مشترک ہو یا الگ الگ بہت فائدہ ہوگا۔اب تو یہ حالت ہے کہ مثلاً جن باتوں کا تعلق عورتوں سے ہے ہم ان پر زور نہیں دے سکتے کیونکہ مردوں نے ان کو اطلاع بھی نہیں دی۔سادہ زندگی اختیار کرنے اور اسراف سے بچنے میں عورتیں بہت بڑی روک ہوتی ہیں۔