خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 329

خطبات محمود ۳۲۹ سال ۱۹۳۸ء سوال کیا جائے گا۔یہاں تک کہ گھر کا ایک بڑا آدمی بھی اپنی جگہ بادشاہ ہے اور اس سے اپنے بیوی بچوں کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ اس نے انہیں کہاں تک اسلامی تعلیم سے آگاہ کیا۔گویا اسلام نے ہم میں سے ہر شخص کو آواز دی ہے اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلَّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ تو گویا دوسرے لفظوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ہر قسم کے لوگ موجود ہیں اور انہیں اپنے اپنے دائرہ میں مختلف قسم کی بادشاہتیں حاصل ہیں۔میں ان سب کو پکارتا اور آواز دیتا ہوں کہ آؤ اور اسلام کے قیام میں میری مدد کرو کیونکہ قیامت کے دن میں تم سے پوچھوں گا کہ تم نے اسلام اور ایمان پھیلانے کیلئے کیا کیا۔ایک ہیڈ ماسٹر اپنے سکول کا بادشاہ ہے اور قیامت کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہ سوال کریں گے کہ تم نے اپنی رعایا میں جو طالبعلم تھے اسلام پھیلانے کیلئے کیا جدوجہد کی۔ایک جماعت کا پریذیڈنٹ اپنی جماعت کا حاکم ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ تم میں سے ہر شخص سے اپنی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔پس جماعت کے پریذیڈنٹ سے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن پوچھیں گے کہ اے فلاں جماعت کے پریذیڈنٹ تو نے اپنے شہر یا محلہ میں میری تعلیم جاری کرنے کیلئے کی کیا کوشش کی۔اسی طرح ہر خاوند بادشاہ ہے اور اس کی بیوی اور اس کے بچے اس کی رعایا ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن میں اس سے یہ دریافت کروں گا کہ اے خاندان کے بادشاہ ! تو نے اسلامی تعلیم کے احیاء کیلئے کیا کیا؟ اسی طرح ایک ماں بھی اپنے بچوں پر بادشاہ ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے یہ دریافت کریں گے کے اے ماں تو بتا کہ میری تعلیم پھیلانے کیلئے تو نے کیا کوشش کی؟ پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس آواز کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھو کیونکہ یہ سوال ہے جو تم سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کرنا ہے اور کی تمہیں قیامت کے دن اس کا جواب دینا پڑے گا۔پس پیشتر اس کے کہ اس سوال کا وقت آئے تم میں سے ہر شخص کو اس کے جواب کیلئے تیار رہنا چاہئے۔“ ( الفضل ۱۷ رجون ۱۹۳۸ء ) ل الانبياء: ۹۷