خطبات محمود (جلد 19) — Page 31
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء اچھی طرح یاد کرادی جائیں تو روز مرہ کے وعظوں کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ سکتی۔ناممکن ہے کہ ان سب باتوں پر انسان عمل کرے اور پھر بھی اس کا غصہ دور نہ ہو۔ان سب باتوں کے کرنے کے دوران میں ضرور کسی نہ کسی نماز کا وقت آجائے گا اور اگر انسان نماز با تر جمہ جانتا ہو تو ضروری ہے کہ نماز کے وقت اس کا غصہ دور ہو جائے۔پھر ایک صورت غصہ کی یہ ہو سکتی ہے کہ جس بات کے متعلق غصہ ہے وہ مستقل نقصان کا موجب ہو سکتی ہو اور ہو بھی میاں بیوی کے درمیان۔اس حالت کے متعلق بتایا جائے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے مسلمان کو کیا کرنا چاہئے۔مثلاً یہ کہ ایسے موقع پر اسلام کا حکم ہے کہ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِمَات مقرر کرو۔یہ ایک ایسا کی حکم ہے جس پر عمل کی ضرورت میرے خیال میں ہزاروں کو پیش آتی رہتی ہے مگر وہ اس پر عمل نہیں کرتے کیونکہ انہیں علم ہی نہیں ہوتا۔لوگ کیا کرتے۔جب غصہ آیا جھوٹ کہہ دیا طلاق۔طلاق۔طلاق۔تین طلاق۔دس طلاق۔سو طلاق۔ہزار طلاق۔تم میری ماں ہو، بہن ہو۔حالانکہ اس سے زیادہ بیہودہ بات کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ایک وقت میں تو تین طلاقیں جائز ہی نہیں ہیں۔مگر لوگ اس طرح طلاق طلاق کہتے چلے جاتے ہیں کہ گویا اس عورت کو سوٹے لگ رہے ہیں اور انہیں وہ ذرائع معلوم ہی نہیں جو غصہ کو فرو کرنے کے ہیں۔اور پھر انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مستقل نقصان کی صورت میں اگر اس کا بیوی کے ساتھ ، بھائی بہن، ماں باپ یا ہمسایہ کے ساتھ جھگڑے سے تعلق ہو تو اس کے متعلق کیا کیا کی احکام ہیں حالانکہ اگر ان باتوں کا علم ہو تو انسان بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتا ہے۔پھر یہ پستہ نہیں کہ بیٹے کی جائیداد کے معاملہ میں ماں باپ کیلئے کیا حکم ہے۔شریعت نے بیٹے کی جائیداد پر والدین کا اختیار نہیں رکھا۔اولا دکو یہ اخلاقی تعلیم دی ہے کہ والدین کی خدمت کرے مگر یہ نہیں کہ جس طرح چاہیں اس کی جائیداد کو استعمال کر سکتے ہیں۔اگر ماں باپ کو ایسا حق ہوتا تو ان کیلئے شریعت زکوۃ کو جائز نہ رکھتی کیونکہ اپنے مال کی زکوۃ اپنے لئے جائز نہیں۔پھر بیٹے کی کی جائیداد میں باپ کیلئے شریعت نے ورثہ رکھا ہے اور انسان اپنے ہی مال کا وارث نہیں ہوا کرتا۔پھر نکاح کے متعلق باپ کی مرضی کو شریعت نے ایک حد تک ضروری رکھا ہے اور اگر اس کی مرضی کے خلاف ہو تو باپ کہہ سکتا ہے کہ بیوی کو طلاق دے دے۔مگر شادی ہو جانے کی صورت میں کی