خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 23

خطبات محمود ۲۳ سال ۱۹۳۸ء کو قائم کریں۔اسلامی تعلیم اس وقت مٹی ہوئی ہے اور ہم یہ کہہ کر اپنے دل کو خوش کر لیتے ہیں کہ اس کا قیام حکومت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے ساتھ تعلق رکھنے والی باتیں بہت تھوڑی ہیں اور ان کا دائرہ بہت ہی محدود ہے۔باقی زیادہ تر ایسی ہیں کہ ہم حکومت کے بغیر بھی ان کو رائج کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت ، اس کی توحید اور عرفان کی خواہش دل میں رکھنا اور اس کیلئے جد و جہد کرنا ، صفات الہیہ کو اپنے اندر پیدا کرنا اور پھر ان کو دنیا میں رائج کرنا ، قرب الہی کے حصول کی کوشش کرنا ، امانت، دیانت، راستبازی و غیره و غیره سینکڑوں باتیں ہیں جن کا حکومت سے کوئی واسطہ نہیں۔کیا اگر ہمارے پاس حکومت نہ ہو تو ہم کی نماز نہیں پڑھ سکتے ، ذکر الہی نہیں کر سکتے اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کو پگھلا نہیں سکتے دیانت اور امانت کو قائم نہیں رکھ سکتے ؟ سچ نہیں بول سکتے ؟ یقیناً یہ سب کچھ کر سکتے ہیں اور اس لئے یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اسلام کی تعلیم بغیر حکومت کے قائم نہیں ہو سکتی۔ان باتوں میں سے بعض ایسی کی ہیں جو انسان کی ذات سے وابستہ ہیں اور بعض ایسی ہیں جو نظام سے وابستہ ہیں اور نظام بغیر حکومت کے بھی قائم ہوسکتا ہے۔دنیا میں کوئی سخت سے سخت حکومت بھی افراد کے نظام کو باطل نہیں کر سکتی۔افراد کے معاملات میں زیادہ سے زیادہ دخل دینے والی حکومتیں جرمنی اور اٹلی کی ہی ہیں مگر ان میں بھی افراد کے نظام کو کلی طور پر باطل نہیں کیا جا رہا۔لوگ اب بھی وہاں مجالس قائم کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ ملک کی اصلاح اور خدمت خلق بھی کرتے ہیں اور پھر ہمیں تو کی اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کے ماتحت رکھا ہے کہ جس کی حکومت افراد کے نظام میں کم سے کم دخل دیتی ہے اس لئے نہیں کہ وہ اپنے ماتحت لوگوں سے کوئی رعایت کرنا چاہتی ہے بلکہ اس لئے کہ ان کے ملک کا نظام ہی ایسا ہے اور انگریز قوم نے حکومت کیلئے اس بارہ میں اختیارات اور قوانین ہی ایسے رکھے ہیں۔اگر ہم کسی اور ملک کے ماتحت ہوتے تو ہمیں نظام قائم کرنے کے متعلق اس قدر آزادی حاصل نہ ہوتی جتنی اب ہے اور اس صورت میں اسلامی تعلیم کو قائم کرنے کیلئے ہمارا دائرہ عمل بہت محدود ہوتا۔لیکن اب ہمارا دائرہ کافی وسیع ہے۔اٹلی اور حج جرمنی وغیرہ ممالک جہاں فسطائی اور نائسی اصول رائج ہیں وہاں حکومتیں افراد کے معاملات میں زیادہ سے زیادہ دخل دیتی ہیں لیکن انگریز قوم نے اپنی حکومت کو ایسے اختیارات ہی نہیں دیئے