خطبات محمود (جلد 19) — Page 212
خطبات محمود ۲۱۲ سال ۱۹۳۸ء دنوں میں وہ سُوکھ جاتا ہے۔اسی طرح جب بڑے لوگوں کو اپنے اندر شامل کیا جائے تو چھوٹوں کا ذہنی ارتقاء رک جاتا ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے قادیان میں یہی مرض نہایت شدت سے پھیلا ہؤا ہے۔کوئی جلسہ ہو، کوئی ٹی پارٹی ہو ، کوئی دعوت ہو اس میں مجھے ضرور شامل کریں گے جس کا یقیناً انہیں یہ نقصان پہنچتا ہے کہ انہیں خود اُٹھنے اور کام کرنے کا موقع نہیں ملتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا طریق بہت کم نظر آتا ہے اور گو صحا بہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاتے بھی تھے مگر موقع کی حیثیت سے لیکن یہاں تو یہ حال ہے کہ جنازہ بھی خلیفہ امسیح پڑھائیں ، نکاح بھی خلیفہ اسیح پڑھائیں ، کوئی دعوت ہو تو اس میں بھی وہ ضرور شامل ہوں ، کوئی ولیمہ ہو تو اس میں بھی ضرور شامل ہوں۔اسی طرح مبلغ کے جانے کی تقریب ہو ، تب وہ شامل ہوں اور آنے کی ہو تو تب بھی وہ شامل ہوں۔غرض خلیفہ سے اتنے کاموں کی امید کی جاتی ہے کہ جن میں شامل ہونے کے بعد دین کی ترقی اور اس کے کاموں میں حصہ لینے کا اس کیلئے کوئی کی وقت ہی نہیں رہتا اور اس کا کام صرف اتنا ہی رہ جاتا ہے کہ دعوتیں کھائیں ، ملانوں کی طرح پر ہاتھ پھیرا، ڈکار لیا اور سور ہے۔یہ ایک مرض ہے جس کے نتیجہ میں افراد کا ذہنی ارتقاء ما را جاتا ہے کیونکہ وہ ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور بڑے درخت کے نیچے جو پودے لگے ہوئے ہوں وہ نشو و نما نہیں پاتے۔پھر اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ جب کوئی اور کی تحریک کرتا ہے تو لوگ اُس کی بات پر کان نہیں دھرتے اور وہ میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے آپ اس امر کے متعلق تحریک کریں۔میں اُس وقت دل میں ہنستا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ سزا ہے جو ان لوگوں کو اس لئے مل رہی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو یہ عادت ڈال دی ہے کہ جب تک کی کوئی بات خلیفہ نہ کہے اُس کا ماننا کوئی ایسا ضروری نہیں ہوتا۔حالانکہ دینی مشاغل اور قرآن کا درس و تدریس اور دوسرے ایسے ہی بیسیوں کام میں خلیفہ کے کہنے کی کیا ضرورت ہے یا کسی ناظر کے کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ہر شخص کو اپنی اپنی جگہ دلی شوق سے یہ کام کرنے چاہئیں اور اگر وہ آجائیں تو سارا کام انہی کا دماغ کر رہا ہوگا اور باقی لوگ خاموش بیٹھے رہیں گے اور اس کا نتیجہ قوم کیلئے مُہلک ہوگا۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے لَا تَسْلُوا عَن اشْيَاء إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ : یعنی اے مومنو!