خطبات محمود (جلد 19) — Page 170
خطبات محمود ۱۷۰ سال ۱۹۳۸ء کوئی گھبراہٹ کا موقع نہیں اور اس طرح باوجود اپنے دل میں کسی قدر ایمان رکھنے کے وہ قربانی کی کے صحیح مقام پر کھڑا نہیں ہوتا اور دھوکا میں مبتلا رہتا ہے۔مگر جہاں لڑائی ہورہی ہو، جہاں تلوار میں چل رہی ہوں، جہاں کفار اپنی پوری طاقت سے مسلمانوں کو مٹانے کیلئے حملہ آور ہوں وہاں نفس انسان کو دھوکا نہیں دے سکتا۔وہاں جب کبھی دھوکا دے گا اس رنگ میں دے گا کہ اسلام کو چھوڑو، اس میں شامل رہ کر تو مصائب ہی مصائب برداشت کرنے پڑتے ہیں مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ خطرہ کوئی نہیں۔مثلاً جب کفار مکہ کا لشکر آ گیا اور مسلمانوں نے دیکھ لیا کہ ابو جہل یا ابوسفیان اس کا کمانڈر ہے اور ہزاروں آدمی اس لشکر میں شامل ہوکر مدینہ پر حملہ کرنے کیلئے تیار ہیں تو اُس وقت کونسا کمزور سے کمزور مسلمان بھی کہہ سکتا تھا کہ کوئی خطرہ نہیں ، یہ محض وہم ہے۔لیکن اگر دشمن کا حملہ مخفی ہے یا ظاہری سامانِ حرب کی بجائے دلائل سے وہ اسلام کے قلعہ پر حملہ آور ہے یا مختلف رنگ کی سازشوں سے وہ اسلام کو کچلنا چاہتا ہے یا منافقت کے ساتھ مسلمانوں میں شامل رہ کر اسلام کو ضعف پہنچانا چاہتا ہے تو ان تمام صورتوں میں جب کہا جائے کی گا کہ آؤ اور قربانی کرو تو بہت سے کمزور طبع لوگ یہ کہنے لگ جائیں گے کہ یونہی ڈرا ر ہے ہیں دشمن کی طرف سے تو کوئی حملہ نظر نہیں آتا۔پس اس وجہ سے یہ ابتلاء زیادہ خطر ناک ہوتے ہیں اور اگر پہلی قسم کے ابتلاء میں بعض کمزور ایمان والے بچ بھی جاتے ہیں اور وہ خطرہ کو اپنے کی سامنے دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ قربانی کا وقت آگیا ہے تو دوسری قسم کے ابتلاء میں باوجود ایمان رکھنے کے بعض لوگ تباہ ہو جاتے ہیں کیونکہ جو قربانی کا وقت ہوتا ہے اسے وہ محض اس وجہ سے کہ دشمن کا حملہ مخفی ہوتا ہے کھو بیٹھتے ہیں۔پھر دوسرا خطرہ جمالی زمانہ کی قربانیوں میں یہ ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ لمبی قربانیوں سے گھبرا جاتے ہیں۔کئی دفعہ میں نے مثالوں سے بھی اس بات کو ثابت کیا ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جنہیں اگر یہ کہا جائے کہ جاؤ اور دشمن سے لڑ کر مر جاؤ تو وہ فوراً اپنی جان دینے کیلئے تیار ہو جائیں گے لیکن اگر روزانہ اُن سے تھوڑی تھوڑی قربانی کا مطالبہ کیا جائے تو وہ رہ جائیں گے اور قربانی میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگ جائیں گے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت یہ خبر دی ہوئی ہے کہ جماعت پر ابتلاء پر ابتلاء