خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 160

خطبات محمود 17۔سال ۱۹۳۸ ( یہاں تک کی عبارت کو حذف کر کے مصری صاحب نے اگلا فقرہ نقل کر دیا ہے۔) پس وہ تمہارے صبر کو بُز دلی پر محمول کریں گے۔اس کے بعد یہ فقرہ حذف کر دیا ہے۔) اور تمہاری خاموشی کو کمزوری کا نتیجہ قرار دیں گے پس (اس کے بعد ذیل کا فقرہ نقل کر دیا ہے۔) تمہارا گورنمنٹ کے پاس شکایت کرنا فضول ہے“۔اب دیکھ لو میرے فقروں کو کس طرح تو ڑ مروڑ کر اور کانٹ چھانٹ کر کوئی ٹکڑا کہیں سے اور کوئی کہیں سے لے کر پیش کیا ہے اور پھر یہ شخص کہتا ہے کہ میں مصلح کی حیثیت سے کھڑا ہوا ہوں۔یا در کھودین کی اصلاح صرف وہی کر سکتا ہے جو سچائی کی مضبوط چٹان پر قائم ہو اور اس کی دیانت تو اسی سے ظاہر ہے کہ میں تو کہتا ہوں کہ مارنا اور فساد کرنا قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے، احادیث صحیحہ کے خلاف ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف ہے، میری تعلیم کے خلاف ہے۔لیکن جو اس تعلیم کو غلط سمجھتا ہے وہ خود ذمہ دار ہے، وہ ہمارے ساتھ کیوں شامل ہے۔یہ بالکل غیر شریفانہ بات ہے کہ وہ شامل تو ہم میں ہے مگر کام غیروں والے کرتا ہے اور کہ میری رائے تو یہی ہے لیکن اگر کوئی اس سے مخالف رائے رکھتا ہے تو اس کی ذمہ داری اسی کی پر ہونی چاہئے۔جماعت اسے کیوں بچائے۔کیا اس نے نظام کی پابندی کی ہے؟ پھر میں تو یہ کہتا تج ہوں کہ دنیا میں انسان کو شرافت اور سچائی اختیار کرنی چاہئے اور اگر وہ کسی کو مارنا چاہیے ہمارے ساتھ شامل نہ رہے۔ان لوگوں میں چلا جائے جو ایسا عقیدہ رکھتے ہیں۔یہ دوغلہ پن ٹھیک نہیں کہ ملا تو رہے ہم میں اور کام وہ کرے جو ہم جائز نہیں سمجھتے۔مگر یہ صاحب بیچ میں سے کئی کالم کے مضمون چھوڑ کر ایسے رنگ میں بات کو پیش کرتے ہیں کہ گویا میں یہ کہہ رہا ہوں کہ مخالفوں کو مارو اور ان کو فنا کر دو۔بے شک ایک جگہ میں نے کہا ہے کہ اگر ایسے چالیس آدمی میسر آجائیں تو ہم دنیا کو ڈرا سکتے ہیں۔لیکن یہ اردو کا محاورہ ہے کہ جب قانون بیان کرنا ہو تو اس موقع پر بھی ہم' کا لفظ استعمال کر دیتے ہیں۔انگریزی میں ایسے موقع پر ایک کا لفظ استعمال کر دیتے ہیں۔عربی میں یہ محاورہ ہے مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے