خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 158

خطبات محمود ۱۵۸ سال ۱۹۳۸ء کیونکہ اُس کو خاموش کرانا تمہارا ہی فرض ہے کیونکہ تمہارے ہی فعل سے اُس نے مزید گالیاں دی ہیں۔کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بد لگام دشمن کا جواب دے کر اُس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دلواتے ہو اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہتے ہو!! اگر تم میں رائی کے دانہ کے برابر بھی دیا ہے اور تمہارا سچ سچ یہ عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر یا تو تم دنیا سے مٹ جاؤ یا گالیاں دینے والے کو مٹا دو۔مگر ایک طرف تم جوش اور بہادری کا دعوی کرتے ہو اور دوسری طرف بُزدلی اور دون ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو۔میں تو ایسے لوگوں کی کے متعلق یہی کہتا ہوں کہ وہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دلواتے ہیں اور وہ آپ ا سلسلہ کے دشمن اور خطرناک دشمن ہیں۔اگر کسی کو مارنا پیٹنا جائز ہوتا تو میں کہتا کہ ایسے لوگوں کو بازار میں کھڑا کر کے خوب پیٹنا چاہئے کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ گالیاں دلواتے ہیں اور پھر مخلص اور احمدی کہلاتے پھرتے ہیں۔(اس کے آگے کچھ عبارت اس مضمون کی تائید میں ہے جسے بخوف طوالت چھوڑا جاتا ہے۔مصری صاحب نے اس سب عبارت کو اپنے مخصوص اغراض کی وجہ سے حذف کر کے ذیل کا فقرہ پچن کر پہلے بیان کردہ فقرہ سے جا ملایا ہے )۔پس میں پھر ایک دفعہ کھول کھول کر بتا دیتا ہوں کہ شریفانہ اور عقلمندانہ طریق دو ہی ہوتے ہیں یا انسان کو مرنا آتا ہو یا انسان کو مارنا آتا ہو۔اس کے بعد کے فقرات جو ان کے مضمون کے غلط ہونے کو روزِ روشن کی طرح ثابت کر دیتے ہیں۔انہوں نے پھر حذف کر دیئے ہیں اور وہ یہ ہیں ) ہمارا طریقہ مرنے کا ہے، مارنے کا نہیں۔ہم کہتے ہیں ہمیں اللہ تعالیٰ نے ابھی اس مقام پر رکھا ہو اہے کہ مر جاؤ مگر اپنی زبان نہ کھولو۔کیا تم نے جہاد پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظم نہیں پڑھی۔اس میں کس وضاحت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتا دیا ہے کہ اگر جہاد کا موقع ہوتا تو خدا تعالیٰ تمہیں تلوار کیوں نہ دیتا۔اُس کا تلوار نہ دینا بتاتا ہے کہ یہ تلوار سے جہاد کا موقع نہیں۔اسی طرح اگر تمہارے لئے مارنے کا مقام ہوتا تو تمہیں اس منہ کے توڑنے کی طاقت اور اس کے سامان بھی ملتے ، جس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام