خطبات محمود (جلد 19) — Page 157
خطبات محمود ۱۵۷ سال ۱۹۳۸ء مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم میں سے بعض دشمن سے کوئی گالی سنتے ہیں تو ان کے منہ سے جھاگ بھر آتی ہے اور وہ گو دکر اس پر حملہ کر دیتے ہیں۔لیکن اُسی وقت ان کے پیر پیچھے پڑ رہے ہوتے ہیں۔تم میں سے بعض تقریر کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مر جائیں گے مگر سلسلہ کی ہتک برداشت نہیں کریں گے لیکن جب کوئی ان پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو پھر ادھر اُدھر دیکھنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں بھائیو کچھ روپے ہیں کہ جن سے مقدمہ لڑا جائے ، کوئی وکیل ہے جو وکالت کرے۔بھلا ایسے خنثوں نے بھی کسی قوم کو فائدہ پہنچایا ہے۔(اس کے بعد ذیل کی عبارت انہوں نے پہلی عبارت سے جوڑ دی ہے۔) بہادر وہ ہے جو اگر مارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو مار کر پیچھے ہٹتا ہے اور پکڑا جاتا ہے تو دلیری کی سے سچ بولتا ہے اور اگر مارکھانے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر جوش میں نہیں آتا اور اپنے نفس کو شدید اشتعال کے وقتوں میں بھی قابو میں رکھتا ہے۔پس اگر تم جینا چاہتے ہو تو دونوں میں سے ایک اصل اختیار کرو۔اس کے بعد ذیل کی عبارت ہے جو مصری صاحب نے حذف کر دی ہے۔اس کو ساتھ ملا کر پڑھو اور دیکھو کہ یہ صلح ہونے کا دعویٰ کرنے والا کس تقوی کا مالک ہے۔) جو کچھ میں سمجھتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ میں سچ سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ بہادر بنو۔مگر اس طرح کہ مارکھانے کی عادت ڈالو اور امام کے پیچھے ہو کر دشمن سے جنگ کرو۔ہاں جب وہ کہے کہ اب لڑو، اُس وقت بے شک لڑو۔لیکن جب تک تمہیں امام لڑائی کا حکم نہیں دیتا اُس وقت تک دشمن کو سزا دینے کا تمہیں اختیار نہیں۔لاٹھی اور سوٹے سے نہیں بلکہ ایک ہلکا سا تھپڑ مارنا بھی تمہارے لئے جائز نہیں۔بلکہ میں سمجھتا ہوں تھپڑ تو الگ رہا ایک گلاب کے پھول سے بھی تمہیں دشمن کو اُس وقت تک مارنے کی اجازت نہیں جب تک امام تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دے۔لیکن اگر تمہارا یہ عقیدہ نہیں تب بھی میں شریف انسان تمہیں تب سمجھوں گا کہ اگر تمہارا یہ دعوئی ہو کہ گالی دینے والے دشمن کو ضرور سزا دینی چاہئے اور تم اُس گالی دینے والے کے جواب میں سخت کلامی کرتے ہو اور اس سے جوش میں آکر وہ پھر اور بد کلامی کرتا ہے تو پھر تم مٹ جاؤ اور اپنے آپ کو فنا کر دو لیکن اُس منہ کو توڑ دو جس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیلئے گالی نکلی تھی