خطبات محمود (جلد 19) — Page 141
خطبات محمود ۱۴۱ سال ۱۹۳۸ء غرض دنیا کی نگاہ میں گواہی سلسلہ ایک دریا کی طرح بہتا ہوا نظر آتا ہے اور سب دیکھنے والے اسے ایک ہی سمجھتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی نظر میں وہ جُدا جُدا دریا ہوتے ہیں۔کئی نادان کی کہتے ہیں کہ یہ دونوں فریق ایک ہی ہے اور ان میں کیا اختلاف ہے۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا تبغينن نہیں۔وہ اصل میں بالکل الگ الگ ہیں اور ان کے درمیان خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک پردہ حائل ہے۔منافق مؤمن کے حالات کو نہیں پاسکتا اور مؤمن منافق کی ذلتوں سے حصہ نہیں لیتا۔اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ ایسے نشان بھیجتا ہی رہتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات نے نشانات ظاہر کرنے سے نہیں روکا کہ دنیا میں جب بھی وہ ظاہر ہوئے ان کا انکار کیا گیا۔وَمَا مَنَعَنَا ان تُريل بالايت إلا ان كذب بها الاولون ، کے یعنی ہمیں اس بات کے سوا نشان بھیجنے سے کس امر نے روکا ہے کہ جب پہلے زمانوں میں نشانات ظاہر ہوئے تو لوگوں نے انہیں نہیں مانا۔مطلب یہ کہ یہ روک کوئی روک نہ تھی اس لئے ہم پھر بھی نشانات بھیجتے ہی رہے کیونکہ نشانات تو ماننے والوں کے لئے ہوتے ہیں اور وہی لوگ خدا تعالیٰ کی جماعت ہیں۔سو جب نشانات ان کو فائدہ پہنچاتے ہیں تو دشمنوں کے انکار کی وجہ سے دوستوں کو فائدہ سے کیوں محروم کیا جائے۔ان نشانوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی جماعتوں کی صداقت کے اظہار کیلئے مقرر کئے ہیں ایک یہ بھی ہے کہ جب بھی کوئی ان کا مقابلہ کرنے کیلئے کھڑا ہوتا ہے وہ جھوٹ کا ہتھیار ضرور استعمال کرتا ہے اور بالعموم ایسے لوگوں کے دعوؤں کی بنیاد جھوٹ اور فریب پر ہوتی ہے اور ان کے مقابلہ پر مؤمنوں کی بنیاد بالعموم صداقت پر ہوتی ہے۔بالعموم میں نے اس لئے کہا کہ ان میں بھی بعض کمز ور لوگ ہوتے ہیں جو مصائب کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور بعض اوقات جھوٹ بول جاتے ہیں۔مگر ان کا جھوٹ عارضی ہوتا ہے مستقل نہیں۔مگر مقابلہ کرنے والوں کا جھوٹ مستقل ہوتا ہے اور وہ بھی علی الاعلان اپنی قوم کی طرف سے ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ ہر شریف الطبع محسوس کر لیتا ہے کہ وہ ایسی خلاف بیانی کرتے ہیں جو مومن نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا تو دشمن نے کہا کہ آپ جھوٹے ہیں۔حالانکہ اگر آپ نَعُوذُ بِاللہ جھوٹے ہوتے تو سچ سے آپ کو مغلوب کرنا آسان تھا۔اگر وہ دعوے