خطبات محمود (جلد 19) — Page 942
خطبات محمود ۹۴۲ سال ۱۹۳۸ اگر انہوں نے چوتھے سال کے چندہ سے پانچویں سال میں کچھ زیادہ چندہ دیا ہو۔یہ دو تنشر تکیں ہیں جو آج میں کر دینا چاہتا ہوں کیونکہ بہت سے دوستوں نے ملاقات کے وقت مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا ہے اور بعض نے رقعے لکھ کر بھی سوالات کئے ہیں اور چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ تحریک جدید کی اہمیت معلوم ہونے کے بعد بہت سے دوستوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ وہ بھی اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُون میں شامل ہوں اسلئے میں نے یہ تشریحات کر دی ہیں اور ان کی راہ میں جو روکیں حائل تھیں انہیں دور کر دیا ہے۔میں ان دونوں قسم کی زیادتی کو ایک نقشہ کے ذریعہ سے بھی حل کر دیتا ہوں اور پانچ روپے چندہ دینے والوں کی مثال کی دونوں صورتیں بیان کر دیتا ہوں۔اول نقشہ یہ ہے کہ ایک شخص نے پہلے سال پانچ روپے دئیے ، دوسرے سال پانچ روپے ایک آنہ یا دو آنہ یا چار آنہ زیادتی کی ، تیسرے سال پھر زیادتی کی مگر چوتھے سال پھر پانچ روپے چندہ دیا چھٹے سال پانچ روپے ایک آنہ یا دو آنہ یا چار آنه چندہ دیا اور پانچویں سال اس سے زیادہ اور آخر تک پھر بڑھاتے چلے گئے انکا چوتھے سال کا چندہ گو تیسرے سال سے کم ہے لیکن چونکہ یہ پہلے تین سالہ دور میں بھی چندہ بڑھاتے رہے ہیں اور دوسرے سالہ دور میں بھی چندہ بڑھاتے رہے ہیں باوجود چوتھے سال کی میں کمی کر دینے کے یہ لوگ سابقون میں شمار ہونگے کیونکہ دونوں دور مستقل صورت رکھتے ہیں اور دونوں دور میں وہ چندہ بڑھاتے چلے گئے ہیں۔دوسری مثال یہ ہے کہ ایک شخص نے پہلے سال میں پانچ روپے چندہ دیا دوسرے میں پانچ روپے ایک آنہ تیسرے میں پانچ روپے ۲ آنے ، چوتھے میں پانچ روپے تین آنے اور پانچویں میں پانچ روپے ۴ آنے اور آخر دور تک وہ کچھ نہ کچھ زیادتی پہلے سال کے چندہ میں کرتے چلے گئے یہ بھی سابقون میں سمجھے جائیں گے کارکنوں کو چاہئے کہ وہ اس امر کو اچھی طرح جماعت کے ذہن نشین کر دیں تا کہ عدم علم کی وجہ سے وہ دوست جو زیادہ ثواب میں حصہ لینا چاہیں اس سے محروم نہ رہ جائیں۔میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جو دوست اس دوران میں فوت ہو جائیں انکی نسبت سمجھا جائے گا کہ وہ آخر تک چندہ دیتے رہے ہیں اور وہ اپنی زندگی میں جس قسم کے چندہ دہندوں کی قسم میں آرہے تھے اسی قسم میں ان کا نام شامل کیا جائے گا اور یہ نہ کہا جائے گا کہ انہوں نے