خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 845 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 845

خطبات محمود ۸۴۵ سال ۱۹۳۸ء اور اس لئے قیمتیں زیادہ تھیں اور اب بہت سستا ہے۔اُس زمانہ میں جو کپڑا امراء پہنتے تھے وہ آج غریبوں کو بھی میسر ہے یہی گبرون اور لدھیانہ اُس زمانہ میں بہت قیمتی اور امراء کے پہننے کا کپڑ سمجھا جاتا تھا مگر اب یہی غریبوں کا عام لباس ہے تو آج کپڑا بہت سستا ہو گیا ہے۔جو آج غرباء کا لباس ہے وہ اُس زمانہ میں امارت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔یہ سوسیاں سے وغیرہ بہت قیمت پاتی تھیں جن میں کوئی کوئی تار ریشم کا ہوتا تھا اور اسے معیار امارت سمجھا جاتا تھا۔تو یہ فرق بے شک دونوں زمانوں میں ہے لیکن اس فرق کو منہا کر کے بھی دیکھا جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی بہت سادہ تھی اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر ساری دنیا کی ترقی کا سامان ہو ہی نہیں سکتا۔اسلام بے شک اس کی اجازت دیتا ہے کہ روپیہ کماؤ مگرا سے خرچ اس طرح کرنے کا حکم دیتا ہے کہ سب بنی نوع انسان اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔سادہ زندگی۔صرف بچت ہی نہیں ہوتی بلکہ اور بھی کئی فوائد ہوتے ہیں۔مہمان نوازی میں مدد ملتی ہے جو اعلیٰ درجہ کے اخلاق میں سے ایک ہے اور جسے حضرت خدیجہ نے نبوت کی تصدیق میں بطور ثبوت پیش کیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جب پہلی مرتبہ وحی نازل ہوئی تو آپ بہت گھبرائے ہوئے گھر پہنچے اس وقت حضرت خدیجہ نے آپ کو تسلی دی اور کہا کہ آپ میں یہ یہ خوبیاں ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا اور ان خوبیوں میں سے ایک آپ نے مہمان نوازی بیان کی ہے پُر تکلف کھانوں کا رواج ہو تو انسان کو مہمان نوازی میں بہت سخت دقت پیش آتی ہے ایک روپیہ میں ایک شخص کیلئے کھانا بمشکل تیار ہو سکتا ہے اس لئے مہمان نوازی نہیں کی ہو سکتی لیکن اس طرح ایک دوانہ میں گزارہ ہو جاتا ہے اور ایک روپیہ کے صرف سے دس ہیں مہمانوں کو کھانا کھلایا جاسکتا ہے۔تو سادہ زندگی میں مہمان نوازی بڑھ جاتی ہے۔مہمان سمجھتا ہے کہ میرا دوست تکلف نہیں کرے گا اس لئے دلیری سے وہاں چلا جاتا ہے اور میزبان بھی کوئی تکلف محسوس نہیں کرتا کیونکہ جو کچھ گھر میں موجود ہو لا کر رکھ سکتا ہے۔کسی کی دعوت کا مفہوم آجکل یہی سمجھا جاتا ہے کہ بہت پر تکلف کھانے تیار کروائے جائیں اور ذہنیت بھی ایسی ہو گئی ہے کہ اگر کسی کو بلاؤ اور پلاؤ تیار نہ ہو تو اس کے ماتھے پر سلوٹیں پڑنے لگتی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ گو یا کسی نے جوتیاں ماری ہیں۔دل میں کڑھتا اور کہتا ہے کہ دیکھو خبیث نے بلا کر میرا وقت