خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 840 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 840

خطبات محمود ۸۴۰ سال ۱۹۳۸ء کہ وہ صرف پندرہ روپے ہی ادا کر سکتا تھا چنانچہ اس نے پندرہ روپے ادا کر دیئے۔تو چونکہ سود میں تھا اس لئے پندرہ روپے اس میں سے بھی باقی رہ گئے اس کے ذمہ بجائے پچاس کے پندرہ ادا کرنے کے بعد بھی پینسٹھ رہ گئے۔اس پر ساٹھ فیصدی سود ۳۹ روپے بنا ، جن میں سے پھر اس نے پندرہ روپے ادا کر دیئے۔تو باقی ۲۴ اصل میں جمع ہو کر نا نوے ہو گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اب چالیس پچاس سال کے بعد جبکہ وہ خاندان ہزاروں رو پید ا دا بھی کر چکا تھا اس کے ذمہ ایک لاکھ سے زائد رقم بقایا تھی۔اب دیکھو ا سے قرض لینے کے وقت ضرورت تو پچاس کی ہی کی تھی اور وہ پندرہ روپے سالانہ بچت کر کے بعد میں ادا بھی کرتا رہا لیکن پندرہ روپیہ سالانہ بچت کرنے کی مصیبت اگر وہ تین سال پہلے اٹھا لیتا تو اس کے پاس ضرورت کے وقت ۴۵ روپے اپنے جمع ہوتے اور اسے قرضہ لینے کی ضرورت پیش نہ آتی لیکن اس نے تین سال پہلے یہ تکلیف نہ اٹھائی مگر بعد میں پچاس سال برابر اٹھاتا رہا۔بعد میں غلہ کی قیمت میں بھی اضافہ ہوتا رہا، زمینوں کی حیثیت بھی بڑھتی گئی اس لئے وہ یا اس کا خاندان اس قرضہ میں زیادہ رقوم بھی ادا کرتا کی رہا مگر جتنا اضافہ ان کی ادائیگی کی اقساط میں ہوتا دوسری طرف اتنا ہی قرضہ کی رقم بڑھتی چلی کی جاتی تھی۔تو انسان کو کسی نہ کسی وقت مصیبت تو آہی جاتی ہے اور اگر انسان سمجھے کہ مصیبت کے بعد جو تکلیف اٹھانی ہے وہ پہلے ہی اٹھالوں تو بہت فائدہ میں رہتا ہے لیکن لوگ مصیبت تو اٹھاتے ہیں مگر بعد میں پہلے نہیں۔اگر کسی سے کہو کہ کچھ نہ کچھ پس انداز کیا کرو تو وہ یہی جواب دے گا کہ کھانے کو تو ملتا نہیں جمع کہاں سے کریں لیکن اگر پوچھو کہ قرض لیا ہوا ہے یا نہیں تو جواب اثبات میں ملے گا۔اس قرض کا ئو د تو ادا کرتے جائیں گے لیکن پہلے کچھ جمع نہیں کر سکتے حالانکہ پہلے اگر کچھ جمع کرتے جائیں تو نہ قرض لینے کی نوبت آئے اور نہ سود دینے کی۔بات ایک ہی ہے۔اگر پچاس روپیہ آدمی پہلے جمع کرلے تو بھی اور اگر بنٹے سے روپیہ لے کر بعد میں سو دسمیت رقم ادا کر دے تو بھی۔ہاں دوسری صورت میں تکلیف زیادہ اٹھانی پڑتی ہے اور روپیہ بھی زیادہ ادا کرنا پڑتا ہے کیونکہ قرض بڑھتا چلا جاتا ہے۔یہ اتنی موٹی بات ہے کہ معمولی سے معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے مگر مصیبت کے وقت تو لوگ بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن