خطبات محمود (جلد 19) — Page 838
خطبات محمود ۸۳۸ سال ۱۹۳۸ اور یہی مدد ہے جو ان کیلئے بھی اور دین کیلئے بھی زیادہ ثواب کا مستحق ہو سکتی ہے اور اخراجات میں کمی کرنا انسان کے بس کی بات ہوتی ہے۔جو لوگ پینشن لیتے ہیں وہ فوراً اپنے اخراجات کی کو کم کر دیتے ہیں یا نہیں۔اگر ہزار تنخواہ ملتی تھی تو پینشن پانچ سو رہ جاتی ہے، پانچ سو ہو تو اڑھائی سو اور سو ہو تو پچاس اور پینشن لینے والا اس کے مطابق اپنے اخراجات میں بھی کمی کر دیتا ہے اور جب دنیوی حالات میں تبدیلی کی وجہ سے اخراجات میں کمی کی جاسکتی ہے تو دین کیلئے ایسا کرنا کیا مشکل ہے حالانکہ ایسا کرنے میں سراسر ہمارا اپنا فائدہ ہے کیونکہ جو بچت ہو گی وہ ہمارے ہی کام آئے گی۔شادی بیاہ اور دوسری ایسی ضروریات کے موقع پر قرض نہ لینا پڑے گا یا اگر اس بچت سے ان کی جائیداد میں بڑھیں گی تو ان سے ان کی آمد میں اضافہ ہو گا اور وہ ان کے اور ان کی اولادوں کے کام آئیں گی۔تو بہت سے فوائد اس کے نتیجہ میں پیدا ہونگے اور سادہ زندگی کے فوائد کا یہ اقتصادی پہلو ہے۔خلاصہ یہ کہ ایک پہلو اس تحریک کا مذہبی سیاسی تھا تا کہ جماعت میں ایسی روح پیدا ہو جائے کہ مساوات قائم رہے اور چھوٹے بڑے کا امتیاز مٹ جائے اور یہ تفرقہ آگے جا کر دوسرے بڑے تفرقوں کا موجب نہ ہو۔بے شک عادتوں کو چھوڑنا مشکل ہوتا ہے جو شخص اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اس کیلئے یہ بہت۔مشکل ہوتا ہے کہ کھانے اور کپڑے میں تبدیلی کرے اسے اس میں شرم محسوس ہوتی ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے اور اس وجہ سے یہ بہت بڑی قربانی ہے مگر قربانی کے بغیر قومی ترقی ہو ہی نہیں سکتی۔یہ خیال بالکل غلط ہے کہ سادہ زندگی کا مطالبہ صرف امراء کیلئے ہے۔غریب کا تو پہلے ہی بمشکل گزارہ ہوتا ہے۔وہ بچت کس طرح کر سکتا ہے کیونکہ امیر کوا گر ضرورت کے وقت زیادہ رقم درکار ہوتی ہے تو غریب کو اسی نسبت سے کم رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔امیر کہتا ہے کہ اس وقت اگر دس ہزار روپیہ ہو تو کام چل سکتا ہے مگر غریب کہتا ہے کہ اگر پانچ روپے ہوں تو کام چل سکتا ہے۔کام دونوں کے رکے ہوئے ہوتے ہیں امیر کا دس ہزار کیلئے اور غریب کا پانچ کیلئے۔میں نے بعض سوالی دیکھے ہیں جو کہتے ہیں کہ ایک روپیہ فلاں ضرورت کیلئے درکار ہے اس میں سے آٹھ آنے تو مہیا ہو گئے ہیں باقی صرف آٹھ آنے کی اور ضرورت ہے۔پس اگر غریب بھی