خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 805 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 805

خطبات محمود ۸۰۵ سال ۱۹۳۸ گو حالت کچھ ہی ہو یہی طبیعت ہمارے دادا صاحب کی بھی تھی کہ وہ کسی کے ساتھ دب کر صلح نہیں کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے خاندان نے دو حکومتوں کے تغیر کے وقت سخت نقصان اٹھایا ہے جب سکھ آئے تب بھی اور جب انگریز آئے تب بھی کیونکہ یہ ہماری طبیعت کے خلاف ہے کہ ہم کسی کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہوں اس لئے جب سکھ آئے تو نہ سکھوں کے آگے ہم جی حضور کرتے رہے اور نہ جب انگریز آئے تو انگریزوں کے آگے ہم نے جی حضور کیا ، گو ہمارے خاندان نے سکھوں اور انگریزوں دونوں سے تعاون بھی کیا اور ان کی مدد بھی کی اور کی ان لوگوں سے زیادہ مدد کی جو جی حضور کرتے رہتے تھے مگر پھر بھی کبھی انگریزوں کے آگے گردن کی جھکا کر کھڑے نہیں ہوئے۔یہ ایک خاندانی اثر ہے جو میرے اندر پایا جاتا ہے اور مذہب نے اسے اور زیادہ رنگ دے دیا ہے۔تو اگر یہاں کے ہندو اور سکھ درست طریق عمل اختیار کرتے تو یقیناً با ہمی جھگڑے اس حد تک نہ پہنچتے جس حد تک اب پہنچے ہوئے ہیں۔انہوں نے ہمیشہ پہلے کی دھمکی دی اور پھر صلح کرنے کی خواہش کی اور دھمکی سننے کے بعد فطرتا میں صلح کرنے سے انکار پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہوں۔پس گومیں نے کئی دفعہ کوشش کی کہ ہم میں صلح ہو جائے۔مگر حالات ہمیشہ اس رنگ میں بدلتے رہے کہ ان کی کوئی نہ کوئی دھمکی میرے سامنے آگئی اور میں اپنا قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور ہو گیا۔مثلاً جب مدیح کا سوال اٹھا اس وقت میری نیت یہی تھی کہ میں قادیانی میں مدیح جاری نہیں ہونے دوں گا مگر بغیر میری اجازت کے بعض لوگوں نے مذبح کھلوانے کے کی متعلق درخواستیں دے دیں اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ سکھ لوگ جھٹکا کی دکان کھولنے کی کوشش کر رہے تھے۔میں نے اس وقت صلح کی کوشش کی۔لیکن ابھی میری کوشش کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تھا کہ میں چند روز کے لئے لاہور چلا گیا۔وہاں قادیان کے بعض ہندوؤں کا ایک وفد میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے شکایت کی کہ قادیان میں مدیح کھلنے والا ہے میں اس کا تدارک کروں۔میں نے ان سے کہا کہ ایک طرف آپ لوگ اپنی مشکلات کو پیش کر رہے ہیں اور دوسری طرف کی سکھوں نے جھٹکا کا کام شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ان حالات میں میں قادیان جا کر اور فریقین کے حالات سن کر ہی کوئی فیصلہ کر سکتا ہوں اور انہیں تسلی دلائی کہ جس حد تک ممکن ہوگا میں ایسی صورت اختیار کروں گا کہ طرفین کی ضروریات اور احساسات کا لحاظ رکھا جائے