خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 803 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 803

خطبات محمود ۸۰۳ سال ۱۹۳۸ صفائی کیلئے تھا اب دور ثانی میں تعمیر کی ضرورت ہے اور تعمیر کا کام تخریب سے بہت زیادہ اہم ہوتا ہے۔پس جو تخر یہی حصہ تھا یعنی دشمنوں کی کوششوں کو باطل کرنا اور انکو ان کے منصوبوں میں ناکام و نامراد کرنا ، یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے پورا ہو چکا ہے اور تعمیری دور کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے جو دنیا میں ایسی فضا اور ایسا رنگ پیدا کر دے جو ان مقاصد کو پورا کرنے میں محمد ہو جن مقاصد کو پورا کرنے کیلئے احمدیت قائم ہوئی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان مقاصد کا پورا ہونا صرف احمدیت کیلئے ہی خاص طور پر مفید نہیں بلکہ اسلام کیلئے بھی مفید اور بابرکت ہے اور پھر صرف اسلام کیلئے ہی ان مقاصد کا پورا ہونا مفید نہیں بلکہ جس قسم کا مذہبی ، سیاسی ، تعلیمی، تمدنی کی اور اقتصادی ماحول ہم پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ دنیا کیلئے بھی مفید اور ضروری ہے۔یہ عظیم الشان کی ماحول ہم نے پیدا کرنا ہے مگر ہماری موجودہ حالت تو ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کیا پڑی کی اور کیا پڑی کا شوربہ۔ہماری تعداد نہایت قلیل ہے اور جب ہم کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں ایسا انقلاب پیدا کر کے رہیں گے تو دنیا ہم پر ہنستی ہے اور کہتی ہے کہ یہ پاگل ہو گئے ہیں۔مگر آج تک دنیا میں جس قدر عظیم الشان کام ہوئے ہیں وہ ایسے ہی لوگوں سے ہوئے ہیں جنہیں پاگل کہا گیا اور ایسی ہی جماعتوں نے انقلاب برپا کیا ہے جنہیں مجنون قرار دیا گیا۔پس پاگل کا لقب ہمارے لئے کوئی گالی نہیں بلکہ خوشی کا موجب ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری انبیاء سابقین کی جماعتوں سے ضرور ایک گہری مشابہت ہے کیونکہ جس طرح انہیں پاگل کہا گیا اسی طرح لوگ آج ہماری جماعت کو پاگل کہتے ہیں۔لیکن بہر حال ہمیں یا درکھنا چاہئے کہ احمدیت کی ترقی کیلئے ہمیں ایک عظیم الشان جد و جہد کی ضرورت ہے اور جیسے جیسے احمدیت کو ترقی ہو گی ویسے ویسے اسلام بھی ترقی کرتا چلا جائے گا اور جوں جوں اسلام دنیا میں ترقی کرے گا توں توں کی دنیا بھی مذہبی اور سیاسی اور تمدنی اور اقتصادی پہلوؤں سے ترقی کرتی چلی جائے گی کیونکہ اسلام کی باقی اقوام کو مٹا کر مسلمانوں کو نہیں بڑھا تا بلکہ باقی اقوام کو بڑھا کر مسلمانوں کو اور آگے لے جاتا ہے۔چنانچہ جب کبھی دنیا میں اسلامی اصول پر ترقی ہو گی ہندوؤں ،سکھوں اور عیسائیوں کی بھی ترقی ہوگی بلکہ دنیا کے ہر مذہب کے مبیع کیلئے ترقی کے راستے کھولے جائیں گے اور ہر شخص کیلئے خواہ وہ کسی مذہب وملت کا پابند ہو ترقی کی طرف قدم بڑھانے کی گنجائش رکھی جائے گی۔