خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 783 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 783

خطبات محمود ۷۸۳ سال ۱۹۳۸ء متعلق اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور تسلیم کیا کہ اس کی غلطی تھی اور ہم حق پر تھے۔مگر فتنہ پرداز حکام نے پھر کوشش کی کہ ایسی صورت پیدا کر دیں جس سے وہ اپنی شکست کو چھپا سکیں مگر انہیں پھر نا کا می ہوئی۔کچھ عرصہ ہوا اس ضلع میں مسٹرائر ڈپٹی کمشنر ہو کر آئے تھے انہوں نے مجھ سے گفتگو کی اور کہا کیوں نہ جماعت احمدیہ اور گورنمنٹ میں صلح ہو جائے۔میں نے انہیں کہا کہ ہم صلح کے لئے تو ہر وقت تیار ہیں مگر دب کر صلح نہیں کریں گے۔انہوں نے ایک سکیم پیش کی اور کہا کہ اس کی سے جماعت کی عزت بھی قائم رہے گی اور گورنمنٹ کی بھی۔میں نے ان سے کہا کہ گورنمنٹ کو ذلیل کرنا تو ہمارا مقصد ہی نہیں۔افسوس ہے کہ وہ جلد یہاں سے چلے گئے۔اگر چہ انہوں نے کہا تو یہ تھا کہ میں اس وعدہ پر اس ضلع میں آیا ہوں کہ مجھے کم سے کم تین سال تک رہنے کا موقع دیا جائے گا مگر وہ جلد رخصت پر گئے اور پھر غالباً پنجاب سے ہی بدل دیئے گئے۔انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں پچھلی تمام مسلیں پڑھوں گا اور پھر سب واقعات پر غور کر کے اس امر کے متعلق کوئی رائے قائم کروں گا کہ جماعت احمد یہ پر کہاں تک سختی ہوئی ہے۔اس کے بعد وہ جلد یہاں سے چلے گئے لیکن جانے سے کچھ عرصہ پہلے ایک دفعہ خان صاحب مولوی فرزند علی ان سے ملے تو انہوں نے خان صاحب سے کہا کہ اس وقت تک میں نے تین مسلیں پڑھی ہیں اور میری یہی رائے ہے کہ ان معاملات میں آپ حق پر تھے اور آپ پر نا واجب سختی کی گئی تھی۔افسوس کہ انہیں موقع نہ ملاور نہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ جاتی دفعہ میں کی ایک ایسا تفصیلی نوٹ چھوڑ کر جاؤں گا جس میں ان تمام امور کے متعلق جن میں آپ حق پر ثابت نگے آپ کی برأت کر دی جائے گی۔تو یہ موقع بھلا دوسری کمیونٹی کو کہاں مل سکتا ہے کہ وہ ثابت کر دے کہ حکام نے غلطی کی تھی اور وہ حق پر تھی۔ایک دفعہ یہاں ایک مار پیٹ کا کیس ہو گیا اور ایک شخص نے بعض احمدیوں کے نام یونہی کی لکھوا دیئے کہ انہوں نے مجھے مارا ہے۔بعد میں اس سے کسی نے کہا کہ تم نے غلطی کی بڑے بڑے آدمیوں کے نام لکھوانے چاہئیں تھے چنانچہ اس نے بعد میں بڑے بڑے احمدیوں کے نام لکھوا دیئے۔مقدمہ پولیس نے شروع کیا ہمیں معلوم تھا کہ اس کے پہلے بیان میں اور نام تھے۔چنانچہ جماعت نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو گواہی میں بلایا کہ ڈائریاں لے کر آئے اور