خطبات محمود (جلد 19) — Page 778
خطبات محمود 227 سال ۱۹۳۸ قائم نہیں کیا جاسکتا۔ہماری جماعت جو خدا تعالیٰ کو مانتی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ کا نبی یقین کرتی ہے وہ کونسی ہر بات پر پوری طرح فورا عمل کرتی ہے۔بے شک بعض لوگ ایسے ہیں جو ہر اس بات پر جو پیش کی جاتی ہے فوراً عمل شروع کر دیتے ہیں مگر کئی ایسے ہیں جن کو ہموار کرنا پڑ تا ہے۔جس طرح کوئی کیل موٹا ہو تو اسے رگڑ رگڑ کر ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔پھر یورپ کے لوگ جن کی کھٹی میں یہ چیزیں داخل ہیں ان کو ایک دن میں کس طرح چھوڑ سکتے ہیں کہ مگر یہ سب باتیں احمدیت میں ہی مل سکتی ہیں۔اگر یہ مٹ جائے تو قرآن بھی ساتھ ہی مٹ کی جاتا ہے، اگر یہ مٹ جائے تو اسلام کے احکام کی حکمت بھی ساتھ ہی مٹ جاتی ہے۔پھر جماعت احمد یہ ہی ایک ایسی جماعت ہے جس نے خدا تعالیٰ کیلئے اپنی تمام طاقتوں کو لگا دیا ہے۔اس کے سوا کوئی جماعت ایسی نہیں جو خدا تعالیٰ کیلئے کوئی کام کرتی ہو۔مصر، فلسطین، عرب، افغانستان، ترکی اور خود ہندوستان میں نئی نئی ترقیات ہو رہی ہیں۔مگر ان کا محور کہیں بھی خدا تعالیٰ کی ذات نہیں۔سب تحریکات وطنی اور قومی ہیں اور خدا تعالیٰ کا خانہ سب جگہ خالی ہے۔اگر کوئی جماعت دعوی کے لحاظ سے بھی ایسی ہے تو وہ صرف ایک احمد یہ جماعت ہے۔یہ کوئی سوچنے والی بات نہیں اس میں کسی غور اور فکر کی ضرورت نہیں دنیا میں کوئی اور جماعت ایسی پیش کرو جو خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کیلئے کام کر رہی ہو۔یقیناً ایسا نہ کرسکو گے۔مصری ، ترکی ، عربی اور ہندوستان کی سب مذہبی اور سیاسی تحریکات میں سے کوئی ایسی نہیں جس کی غرض یہ ہو۔ہندوستان کی جمعیۃ العلماء بھی آج یہ کہہ رہی ہے کہ کانگرس کے ساتھ شامل ہوئے بغیر اسلام زندہ نہیں رہ سکتا اور ظاہر ہے کہ جس اسلام کو زندہ رہنے کے لئے کانگرس کی مدد درکار ہے اس کی حقیقت ہر مسلمان خود سمجھ سکتا ہے۔غرضیکہ دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں نہ چھوٹی نہ بڑی جو خدا تعالیٰ کیلئے کام کرتی ہو صرف یہی ایک جماعت احمد یہ ہے جو محبت الہی کے محور کے گرد گھومتی ہے اور جس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو کھینچ کر خدا تعالیٰ کے پاس لایا ج جائے۔دنیا میں لوگ مال کی قربانیاں بھی کرتے ہیں اور جذبات کی بھی مگر ان میں سے کوئی بھی کی خدا تعالیٰ کے لئے نہیں ہوتی سب ذاتی یا قومی یا خاندانی اغراض کے ماتحت ہوتی ہیں خدا تعالیٰ کیلئے کوئی نہیں ہوتی۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مرتبہ اور درجہ کی صحیح شناخت