خطبات محمود (جلد 19) — Page 773
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء کو دیکھ لو، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ بالخصوص خلیفہ اول نے اسے حل کر دیا ہوا ہے ان کے واقعات کو پڑھ لو، پھر تمہارے دماغوں میں عقل موجود ہے اس سے مدد لو لیکن اگر تم نہ عقل سے فائدہ اٹھاؤ اور نہ صحابہ کے طریق اور آثار سے نہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فائدہ اٹھاؤ اور نہ قرآن کریم سے تو ہم بھی چُپ ہیں۔مگر وہی مسئلہ جس پر اللہ تعالیٰ تیرہ سو سال تک چُپ رہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اس پر اتنا زور دیا گیا کہ گویا سب سے اہم مسئلہ یہی ہے۔یہ خرابی تو تیرہ سو سال سے موجود تھی مگر اس کی جڑ اکھیڑنے کیلئے کوئی انتظام اللہ تعالیٰ نے نہیں کیا۔قرآن کریم کی جو آیات پکار پکا ر کر وفات مسیح کا اعلان کر رہی ہیں وہ پہلے بھی موجود تھیں لیکن بالکل خاموش تھیں لیکن اب سامنے آکر دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رہی کی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ ہماری موجودگی میں تم کس طرح حیات مسیح کا عقیدہ رکھتے ہو۔اسی طرح کی وہ احادیث بھی جو وفات مسیح پر شاہد ناطق ہیں تیرہ سو سال سے موجود تھیں لیکن خاموش تھیں آج کی کس طرح حقیقت حال کو ظاہر کر رہی ہیں۔صحابہ کرام کا اجماع جو بچپکے سے ایک گوشہ میں پڑا تھا اور اس غلط عقیدہ کو ر ڈ کرنے میں کوئی حصہ نہ لے رہا تھا مگر آج چلا چلا کر ہمیں اپنی طرف متوجہ کر رہا اور کہہ رہا ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ان صحابہ کا فیصلہ ہوں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو قائم کیا تم میری طرف کیوں نہیں دیکھتے۔وہ عقل جو پہلے بھی ہر انسان میں موجود تھی خاموش تھی مگر آج اس خیال کو دھکے دیتی اور اس پر قہقہے لگا رہی ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ایسی بات پر ایمان رکھتے ہیں مگر یہ نظارہ ہمیں تیرہ سو سال کے بعد آج نظر آتا ہے پہلے نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج خدا تعالیٰ نے ایک نئی عمارت بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔وہ عمارت بن نہیں سکتی تھی جب تک اس کھنڈر کو صاف نہ کیا جا تا۔پس اس نے حکم دیا کہ اس ملبہ کو اٹھاؤ تا نئی عمارت تیار ہو سکے۔مرض ، ضر ر اور نقصان پہلے بھی موجود تھا مگر تیرہ سو سال تک آسمان سے اس کا علاج نہ کیا گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اسے دور کرنے کی طرف توجہ نہ کی جس کی وجہ یہی ہے کہ کوئی نئی عمارت وہاں بنانے کا موقع نہ تھا مگر کی جب نئی عمارت بنانے کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا تو اس نے فوراً اپنے کھنڈر کو مٹا دیا اور اس کی شناخت کو پورے زور کے ساتھ اور کھلے الفاظ میں بیان کیا۔