خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 7

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء سامنے ہیں جبکہ وہ انسان کی طاقتوں کو نہایت ہی محدود دیکھتے تھے مگر آج ایتھر نے اور وائرلیس نے اور خوردبینوں نے اور دور بینوں نے انسان پر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ انسان جو ایک عاجز مخلوق ہے جس کی طاقتیں محدود ہیں جب ایک جگہ پر بیٹھا ہوا ساری دنیا میں اپنی آواز پہنچا سکتا ہے تو خدا تعالیٰ کی طاقت اور قوت محدود کس طرح ہو گئی۔پس اس زمانہ میں ہماری ذمہ داری بہت زیادہ ہے اور ہمارے فرائض نہایت نازک ہیں مگر افسوس ان پر جو دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے نہیں سنتے۔خدا تعالیٰ کا ایک نبی ہم میں آیا۔اس کا ایک رسول ہم میں مبعوث ہوا اور اس کا ایک مامور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا مگر ابھی کچھ اندھے ایسے موجود ہیں جو خدا تعالیٰ پر توکل کرنے کی بجائے انسانوں پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اس طرح اپنے عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ حقیقتا خدا تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے پر ایمان نہیں رکھتے۔مجھے افسوس ہے کہ ابھی ہماری جماعت میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جس کی نگاہیں انسانوں پر اُٹھتی ہیں ، جس کی نگاہیں اسباب پر جاتی ہیں اور جو انسانی طاقتوں اور قوتوں پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں اور جب بھی انہیں کوئی کام کرنا پڑتا ہے وہ انسانی طاقتوں میں اُلجھ کر رہ جاتے اور خدا تعالیٰ کی طاقتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔اس طرح وہ با وجود ایمان لانے کے بے ایمان رہتے ہیں ، باوجود تو حید کا دعویٰ کرنے کے شرک کی غاروں میں گرے رہتے ہیں حالانکہ دنیا میں کوئی بھی نبی ایسا نہیں آیا جس نے تمام اصلاحوں کے ساتھ ساتھ شرک کو دور کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔حضرت آدم آئے اور اپنے زمانہ کے لحاظ سے وہ کئی مقاصد لے کر آئے۔انہوں نے دنیا کو متمدن بنایا اور نظام کی پابندی کی عادت ڈالی مگر تو حید کو انہوں نے بھی قائم کیا۔پھر حضرت نوح آئے تو اُس وقت انسانی دماغ اور زیادہ ترقی کر چکا تھا اور اس نے صفات الہیہ کا ادراک کرنا شروع کر دیا تھا اور اس فکر میں ٹھو کر کھا کر اُس نے شرک کا عقیدہ اخذ کر لیا تھا۔چنانچہ انہوں نے بھی اپنی تعلیم میں توحید کی تعلیم کے علاوہ شرک کے خلاف بے انتہاء زور دیا اور روحانیت کی باریک راہیں بنی نوع انسان کو سکھائیں۔پھر حضرت ابراہیم آئے تو گو انہوں نے اور اصلاحات بھی کیں مگر شرک کے باریک حصوں کا انہوں نے بھی رڈ کیا کیونکہ آپ کے زمانہ میں شرک ایک فلسفی کا مضمون بن گیا تھا اور عقلوں پر فلسفہ کا غلبہ شروع ہو گیا تھا۔پھر موسیٰ آئے تو وہ