خطبات محمود (جلد 19) — Page 698
خطبات محمود ۶۹۸ سال ۱۹۳۸ء ہے إِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔پھر ایک اور طبقہ ہے جو افیم کھائے ہوئے مریض کی طرح ہے جسے ہر وقت جگانا پڑتا ہے۔تحریک جدید کا کام عارضی اور مجموعی ہے مگر اس میں بھی سستی پیدا ہو گئی ہے۔میں نے اس تحریک کے ابتداء میں یہ شرط کر دی تھی کہ اس میں وہی شخص حصہ لے جو اپنی خوشی اور مرضی سے اس میں شامل ہونا چاہے۔کسی پر اس کے متعلق جبر نہیں کیا گیا مگر میں دیکھتا ہوں تین سال تو دوستوں کا جوش قائم رہا مگر اب چوتھے سال اس میں بھی کمزوری نظر آ رہی ہے۔حالانکہ اس سال تیسرے سال سے کم چندہ دوستوں کے ذمہ لگایا گیا ہے مگر پھر بھی پچپن ہزار کے قریب رو پیدا بھی وصول ہونا باقی ہے۔گویا ساٹھ فیصدی چندہ تو وصول ہو ا ہے مگر چالیس فیصدی چندہ ابھی وصول ہونا باقی ہے۔یہ امر بتا رہا ہے کہ باوجود اس کے کہ لوگوں نے طوعی طور پر اس چندہ میں شرکت کی تھی اور باوجود اس کے کہ ان پر کوئی جبر نہیں کیا گیا پھر بھی وہ ایسے تھے جن کے بدن میں اپنے قول کو پورا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔گویا ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں سوگز واروں دس گز نہ پھاڑوں یعنی جب نام لکھانا پڑے تو اس وقت کہہ دیا کہ میں سو گز کپڑا قربان کر دوں گا مگر جب دینا پڑے تو ایک گز بھی نہیں دیتے حالانکہ تین سال یا سات سال انسانی عمر کے مقابلہ میں چیز ہی کیا ہیں۔معمولی معمولی بنوں پر زمیندار آپس میں لڑ پڑتے اور دس دس سال کی قید کاٹ کر آ جاتے ہیں۔پس اگر زمیندار ایک کھیت کی منڈیر پر دس سال کی قید بخوشی برداشت کر لیتے ہیں اور وہ ان سالوں کو کوئی بڑی بات نہیں سمجھتے تو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے دس سال قربانی کرنا کون سی بڑی بات ہے۔بالخصوص جب کہ میں نے بارہا کہہ دیا ہے کہ یہ طوعی قربانی ہے اور اس میں وہی حصہ لے جو اس کی ادائیگی کا اپنی خوشی سے اقرار کرے۔یہ کوئی جبری سکیم نہیں کہ ہر شخص کو ہم اس میں حصہ لینے پر مجبور کریں۔ہم نے صاف کہہ دیا تھا کہ جس میں اسے برداشت کرنے کی ہمت نہیں وہ مت آئے۔صرف وہی آگے بڑھے جو اپنی مرضی سے اس میں حصہ لے مگر افسوس ہے کہ اس میں بھی سُستی آ گئی۔میں نے اس کے لئے سیکرٹری بھی مقرر کئے تھے مگر وہ بھی افیمی طرز کے سیکرٹری معلوم ہوتے ہیں کہ سیکرٹری تو بن گئے ہیں مگر کام کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں۔یہی حال دوسرے کاموں کا ہے۔حالانکہ اب دُنیا پر ایک ایسا نازک وقت آچکا ہے کہ دُنیا میں عنقریب بہت بڑا تغیر ہونے والا ہے۔تین سال