خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 685 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 685

خطبات محمود ۶۸۵ سال ۱۹۳۸ء چنانچہ کھانا کھایا اور حقہ تیار کرنا شروع کیا مگر ابھی چلم سلگی نہیں تھی کہ ظہر کی اذان ہوگئی اور ایک شخص مجھے کہنے لگا مسجد چلو وہاں مرزا صاحب آئیں گے ان کی زیارت کرنا۔چنانچہ میں حقہ کو و ہیں چھوڑ کر مسجد چلا گیا اور نماز پڑھی۔نماز کے بعد مرزا صاحب وہیں بیٹھ گئے اور دیر تک باتیں کرتے رہے۔جب وہ اُٹھ کر اندر گئے تو میں نے کہا چلو اب چل کر حقہ پئیں۔چنانچہ میں نے پھر چلم سلگائی اور حقہ تیار کیا مگر ابھی دو تین کش ہی لگائے تھے کہ عصر کی اذان ہوگئی۔لوگ مجھے کہنے لگے کہ چلو عصر کی نماز پڑھو۔میں حقہ کو وہیں چھوڑ کر عصر کی نماز پڑھنے چلا گیا۔جب میں عصر کی نماز پڑھ چکا تو میں سمجھا کہ اب میں جا کر آرام سے حقہ پیوں گا مگرا بھی بیٹھا ہی تھا کہ لوگ کہنے لگے مولوی صاحب بڑی مسجد میں درس دینے چلے گئے ہیں ، وہاں چلو۔چنانچہ میں اُٹھ کر بڑی مسجد چلا گیا۔وہاں شام تک درس ہوتا رہا۔وہاں سے ابھی اُٹھا ہی تھا کہ مغرب کی اذان ہوگئی۔چنانچہ مغرب کی نماز پڑھنے چلا گیا۔مغرب کے بعد مرزا صاحب پھر بیٹھ گئے اور کی باتیں کرنے لگ گئے۔وہاں سے جب میں اُٹھا تو میں نے کہا اب تو چلم سُلگا کر آرام سے حقہ پیوں گا مگر ابھی چلم سلگا نے بھی نہیں پایا تھا کہ عشاء کی اذان ہوگئی میں عشاء پڑھنے چلا گیا۔وہاں سے واپس آیا تو کہنے لگے کھانا کھا لو۔چنانچہ کھانا کھایا اور میں نے سمجھا کہ اب تو کی فراغت ہوئی مگر کھانا کھا کر میں فارغ ہی ہوا تھا کہ ایک مولوی صاحب کا مہمان خانہ میں ہی درس شروع ہو گیا میں وہ سننے لگ گیا اور سُنتے سنتے ہی نیند آ گئی اور اُٹھ کر سو گیا اور حقہ پینے کا موقع نہ ملا۔جب صبح آنکھ کھلی تو بستر اُٹھا کر میں وہاں سے نکل کھڑا ہوا اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ آدمیوں کے رہنے کی جگہ نہیں۔تو دنیا کے لوگ جو ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ نماز پڑھنی اور روزے رکھنے ، دین کی خدمت کرنا سب وقت کا ضیاع ہے۔چنانچہ کئی مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ بھلا آج کل پانچ وقت نماز پڑھ کر بھی کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے اور اس کی میں کوئی شبہ نہیں کہ دُنیا کی کوئی قوم اس رنگ میں ترقی نہیں کر سکتی مگر جس نے خدا تعالیٰ کی مدد کی سے ترقی کرنی ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پنجوقتہ نماز پڑھے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ روزے رکھے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خدمت دین کرے خواہ دُنیا اسے وقت اور مال کا ضیاع ہی قرار دے۔پس فرماتا ہے واعبدوا ربكم تم اپنے رب کی عبادت کروی