خطبات محمود (جلد 19) — Page 675
خطبات محمود ۶۷۵ سال ۱۹۳۸ کے خطاب میں کیا رکھا ہے؟ دو لفظ ہی ہیں ورنہ ان کی کیا حقیقت ہے؟ پھر ان کا یہ اپنا اختیار ہوتا ہے کہ وہ اگر چاہیں تو اپنا نام ” خان صاحب“ رکھ لیں۔چنانچہ کئی لوگ اپنے بچوں کا نام خان صاحب یا خان بہادر “ رکھ دیتے ہیں۔پس اگر وہ چاہیں تو یہ نام آپ بھی اپنا رکھ سکتے ہیں مگر اس لئے کہ گورنمنٹ کی طرف سے ان کو یہ نام ملے وہ اپنی ساری عمر اسی کوشش میں گزار دیتے اور اس کے لئے بڑی بڑی غلامیاں کرتے ہیں، کہیں انہیں جھوٹ بولنا پڑتا ہے، کہیں فریب سے کام لینا پڑتا ہے، کہیں عیاری اور مکاری کرنی پڑتی ہے، کہیں قوم کو قربان کرتے ہیں اور اس تمام مکر و فریب اور تمام چاپلوسی غلامی اور لجاجت میں ایک ہی بات اُن کے مد نظر ہوتی ہے کہ کسی دن صاحب بہادر خوش ہو جائے تو وہ ہمارے متعلق خان صاحب یا خان بہادر کے خطاب کی سفارش کر دے۔اگر انسانی فطرت کی اس کمزوری کا خیال نہ رکھا جائے تو ایسے انسان کا تصور کر کے ہی شرم سے انسان پانی پانی ہو جاتا ہے اور وہ حیران ہوتا ہے کہ ان الفاظ میں آخر رکھا ہی کیا ہے اور خان صاحب یا خان بہادر کا خطاب ملنے سے ہو کیا جاتا ہے کہ وہ اس کے لئے اتنی جدو جہد کرتا ہے سوائے اس کے کہ اُسے افسروں کو سلام کرنے پڑتے ہیں اور دربار میں اسے جھکنا پڑتا ہے اور اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور ان عزتوں سے تو شریف آدمی بعض دفعہ بڑے گھبراتے ہیں۔ہمارے ہی عزیزوں میں سے ایک کٹر دُنیا دار تھے وہ احمدی نہیں تھے۔انہوں نے ایک دفعہ کوشش کی اور وہ سفید پوش ہو گئے۔اس زمانے میں ڈاک کے متعلق سرکاری انتظام چونکہ ابھی اعلیٰ پیمانہ پر نہیں تھا اس لئے جو ذیلدار یا سفید پوش ہوتے ، انہیں بعض دفعہ ضروری چٹھیاں بھیجی جاتی تھیں کہ وہ ڈپٹی کمشنر کو پہنچا آئیں۔اتفاق ایسا ہوا کہ ادھر وہ کوشش کر کے سفید پوشی بنے اور اُدھر ایک سرکاری آفیسر نے اُنہیں بلایا اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر آجکل دورہ پر ہے اور فلاں جگہ ہے، ایک اہم سرکاری پروا نہ لیفٹینٹ گورنر صاحب کی طرف سے آیا ہے ، آپ یہ جا کر اُنہیں پہنچا دیں۔وہ تو خیر حکم حاکم مرگِ مفاجات اُنہوں نے جوں توں کر کے پہنچا دیا مگر گھر واپس آتے ہی استعفیٰ دے دیا اور کہا مجھے سفید پوشی منظور نہیں۔میں سفید پوشی عزت کی چیز سمجھا تھا