خطبات محمود (جلد 19) — Page 674
خطبات محمود ۶۷۴ سال ۱۹۳۸ء سمجھتا ہے کہ اس میں میری تباہی اور بربادی ہے لیکن جب وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اس چیز کو اختیار کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی خود حفاظت کرتا اور بجائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اس پر انعامات کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔حدیثوں میں اس کی ایک نہایت ہی لطیف مثال بیان کی گئی ہے کہ کس طرح وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیفیں اُٹھاتے اور بظاہر اپنے آپ کو کی ہلاکت کے گڑھوں میں گراتے چلے جاتے ہیں انجام کار اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جاتے اور تباہی کے سامانوں میں ان کے لئے برکت کے سامان پیدا کر دئے جاتے ہیں۔حدیثوں میں آتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے ایک بندے سے کہے گا کہ دوزخ میں گو د، بندہ بے دھڑک دوزخ میں کو دجائے گا اور کہے گا کہ جب مجھے میرے رب کا یہی حکم ہے کہ میں دوزخ میں گو د جاؤں تو مجھے دوزخ ہی منظور ہے مگر جب وہ اس میں گو دے گا تو دوزخ اس کے لیے نہایت آرام دہ جنت بن جائے گی اور وہ آگ سے کھیلنے لگ جائے گا۔اللہ تعالیٰ اس پر کہے گا دیکھو میرا بندہ آگ سے کیسا خوش ہو رہا ہے۔یہ مثال در حقیقت اسی بات کی ہے کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے قربانی کر کے بظاہر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں اللہ تعالی انہیں ہلاکت کے سامانوں میں ان کے لئے ترقی کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔بظاہر دنیا سمجھتی ہے کہ وہ آگ میں گودے ہیں مگر جب وہ اس آگ میں کود جاتے ہیں تو وہی آگ ان کے لئے جنت بن جاتی ہے۔صحابہ کو دیکھیں اُنہوں نے کیسی خطر ناک آگ اپنے لئے قبول کی مگر وہی آگ ان کے لئے کیسی جنت بن گئی کہ دُنیا پر اس زمانے سے لے کر آج تک تیرہ سو سال گزر چکے اور نا معلوم ابھی کتنے سو سال یا کتنے ہزار سال یا کتنے لاکھ سال یا کتنے کروڑ سال یا کتنے ارب سال اور کی گزرنے ہیں، اللہ تعالیٰ ہی اس کو بہتر جانتا ہے مگر آج بھی جب صحابہ کا کوئی ذکر کرتا ہے تو ایک مخلص کا دل محبت سے بھر جاتا ہے اور وہ رضي الله عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ے کہے بغیر نہیں رہتا اور قیامت تک ایسا ہی ہوتا چلا جائے گا۔یہ کوئی معمولی بات نہیں دُنیا میں لوگ نہایت چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔بعض آدمیوں کو میں نے دیکھا ہے ان کی ساری عمر خان صاحب کے خطاب کے حصول کے لئے ہی گزر جاتی ہے۔حالانکہ خان صاحب“ 66