خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 662 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 662

خطبات محمود ۶۶۲ سال ۱۹۳۸ء قتل بیمٹی سے آپ کے نزدیک کسی قرآنی صداقت پر زد نہیں پڑتی تھی۔ممکن ہے کوئی کہہ دے کہ عام حوالوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو قتل سے محفوظ رکھتا ہے یہ چونکہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی تھا۔کہ انبیاء قتل سے محفوظ رہتے ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کا الگ ذکر نہیں فرمایا۔ہم کہتے ہیں اگر عام حوالے ہی کافی ہو سکتے تھے تو پھر حضرت مسیح کے واقعہ کے متعلق زور دینے اور بار بار بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی اس کے متعلق بھی سمجھ لیتے کہ وہ عام حوالوں سے اس کی تردید ہو چکی ہے اور خاص طور پر زور نہ دیتے۔اور دونوں سے یکساں سلوک کرتے اگر ایک کا ذکر چھوڑا تھا تو دوسرے کا ذکر بھی چھوڑ دیتے اور اگر ایک کے متعلق زور دیا تھا تو دوسرے کے متعلق بھی زور دے دیتے۔مگر آپ نے حضرت مسیح کے مصلوب ہونے کی تو بار بار تر وید فرمائی۔مگر حضرت یحیی علیہ السلام کے قتل ہونے کی ایک جگہ بھی تردید نہیں فرمائی۔بلکہ جہاں لکھا ہے یہی لکھا ہے کہ وہ قتل ہوئے۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یجی کے واقعہ قتل کی آپ نے اس لئے تردید نہیں کی۔کہ وہ واقعہ میں قتل ہوئے اور حضرت مسیح کے مصلوب نہ ہونے پر اس لئے زور دیا۔کہ وہ واقعہ میں صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے۔بعضوں نے لکھا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو حوالجات ہیں یہ پہلے کے ہیں اور جن حوالوں میں آپ نے یہ فرمایا ہے۔کہ انبیا ء قتل سے محفوظ رہتے ہیں۔جیسا کہ تحفہ گولڑویہ وغیرہ میں وہ بعد کے ہیں اور بعض ایسی کتابوں کے ہیں جو ۱۹۰۲ء یا ۱۹۰۳ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھیں۔اس لئے بعد کے حوالے زیادہ یقینی ہیں بہ نسبت پہلے حوالوں کے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اول میری جس قدر روایتیں ہیں۔وہ سب بعد کے زمانہ کی ہیں۔تحفہ گولڑویہ کی اشاعت کے وقت میں بالکل بچہ تھا۔پس میں نے جو روایتیں بیان کی ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری دو تین سالوں کی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے ہیں اس وقت میری عمر انہیں 19 سال کی تھی۔اور وہ عمر جس میں میں مسائل سمجھ سکتا تھا اور روایت یا درکھ سکتا تھا اور پیش کر سکتا تھا وہ سولہ سترہ سال کی ہی ہو سکتی ہے۔پس میں کی