خطبات محمود (جلد 19) — Page 661
خطبات محمود ۶۶۱ سال ۱۹۳۸ء ثابت کر دینی کافی تھی۔کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں۔چاہے وہ صلیب پر فوت ہوئے ہوں یا طبعی موت سے مرے ہوں۔کیونکہ اگر ان کی وفات ثابت نہ ہوتی تو آپ کا دعویٰ ثابت نہ ہوسکتا۔اور ایک کہنے والا کہہ سکتا تھا کہ جب مسیح آسمان پر زندہ موجود ہے اور اسی نے آخری زمانہ میں آنا ہے تو آپ کو ہم کیوں مانیں۔پس ضرورت صرف اس امر کی تھی کہ حضرت مسیح کی وفات ثابت کر دی جاتی اس امر کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ یہ ثابت کیا جا تا مسیح صلیب پر لٹک کر فوت نہیں ہوا وہ چاہے صلیب پر مرتے یا طبعی موت سے وفات پاتے بات ایک ہی تھی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ ہر صورت میں ثابت تھا مگر آپ نے اس کی تروید کی اور اس لئے کی کہ اس سے قرآن اور روحانیت پر ضرب پڑتی تھی پس آپ نے اس پر اپنے لئے زور نہیں دیا۔بلکہ قرآن کریم کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے دیا۔ورنہ آپ کا دعویٰ ہر صورت میں ثابت تھا۔چاہے یہ کہا جاتا کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہوئے ہیں چاہے یہ کہا جاتا کہ وہ می کسی مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہوئے ہیں۔بہر حال جب یہ ثابت ہو جاتا کہ وہ مر گئے ہیں اور اب دنیا میں واپس نہیں آسکتے۔تو ایک عقلمند شخص یہ سوچ سکتا تھا کہ جب پہلا مسیح مر چکا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں یہ ہیں۔کہ ایک مسیح آنے والا ہے تو ضرور اس سے مراد اس کا کوئی بروز اور مثیل ہے اور اس کے بعد وہ اس بات پر مجبور ہوتا کہ آپ کے دعویٰ پر غور کرے۔پس آپ کو اپنے دعوی کی کے ثبوت میں حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر سے زندہ اتارنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی۔مگر سب لوگ جانتے ہیں کہ آپ نے اس پر بڑا زور دیا ہے اور بار بار فرمایا ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔پس سوال یہ ہے کہ آپ نے اس پر کیوں زور دیا۔جب کہ آپ کے دعوئی کے ساتھ براہ راست اس امر کا کوئی تعلق نہیں تھا۔اس کا جواب یہی ہے کہ آپ نے اپنے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ قرآنی صداقت کے اظہار کے لئے اس پر زور دیا ہے اور اس لئے زور دیا کہ اس سے قرآن اور روحانیت پر ضرب پڑتی تھی۔لیکن جب بیٹی علیہ السلام کا ذکر آتا ہے تو وہاں ایک دفعہ بھی یہ نہیں فرماتے۔کہ وہ قتل نہیں ہوئے۔بلکہ جہاں کہتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ حضرت یحی قتل ہوئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ