خطبات محمود (جلد 19) — Page 631
خطبات محمود ۶۳۱ سال ۱۹۳۸ء شروع ہوئی تھی۔گو تاریخ کی اصل تدوین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے شروع ہوئی کی ہے۔مگر بہر حال حضرت یحییٰ علیہ السلام کے زمانہ سے اس کی بنیاد پڑنی شروع ہو گئی تھی۔پس جبکہ حضرت یوحنا یا حضرت یحی" جیسا کہ قرآن کریم میں ان کا نام آتا ہے۔ایک تاریخی آدمی ہیں۔تو ان کے متعلق تاریخی شہادتیں ہمارے لئے بہت کچھ روشنی کا موجب ہو سکتی ہیں۔کیونکہ ایک نبی کی اپنی جماعت ممکن ہے کسی ایسے معاملہ میں جوان کے مفید پڑتا ہو مبالغہ سے کام لے ممکن ہے دشمن بھی ایسے معاملہ میں جو اس کے حق میں ہو مبالغہ سے کام لے مگر جب دوست دشمن متفق ہوں اور جب ایک تیسرا بے تعلق شخص بھی وہی بات کہے اور پھر وہ اس بات کو تاریخ میں اسی وقت لکھ دے اور وہ تاریخ محفوظ چلی آئے تو اس کے متعلق اگر شکوک وشبہات شروع کر دیئے جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہمیں ہر بات میں شک کرنا پڑے گا۔یہی وجہ ہے کہ جب بعض لوگوں نے شک کرنا شروع کر دیا تو انہوں نے اس حد تک لکھ دیا۔کہ حضرت موسیٰ کی علیہ السلام کا وجود ہی نہ تھا۔اور بعض نے لکھ دیا کہ حضرت عیسی کا وجود وہمی وجود ہے اور بعض نے یہ لکھ دیا ہے کہ بدھ کوئی آدمی ہی نہیں ہوئے تو اگر ان صداقتوں کا انکار کیا جائے جو تاریخی ہوں اور جن کا مخالف و موافق اقرار کرتے ہوں۔تو پھر کوئی ٹھکانا ہی نہیں رہتا۔چنانچہ دیکھ لو چکڑالوی فرقہ کے لوگوں نے جب شک کیا تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ نماز نہیں پڑھتے تھے جو آجکل لوگ پڑھتے ہیں۔یہ نماز لوگوں نے بعد میں بنالی ہے کیونکہ اس کا ذکر بقول ان کے قرآن میں نہیں ہے۔اسی طرح بیسیوں واقعات وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے تاریخوں میں پڑھتے ہیں۔مگر چونکہ وہ انہیں اپنے فہم قرآن کے رو سے قرآن کریم کے احکام کے مطابق نہیں سمجھتے۔اس لئے تاریخی شہادتوں کا بالکل انکار کر دیتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ تاریخ بھی غلطی کر جاتی ہے مگر جب تاریخ اور مذہب اور قومی روایات تینوں باتیں جمع ہوں تو پھر ان کو رڈ کرنا انسان کو ایسے مقام پر کھڑا کر دیتا ہے کہ اس کے لئے کوئی چیز ثابت کرنی ممکن ہی نہیں رہتی اور دنیا کی نگاہوں میں بھی اس کی عزت جاتی رہتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے یہ واقعہ سنا ہوا ہے۔آپ فرمایا کرتے کہ کوئی شخص تھا