خطبات محمود (جلد 19) — Page 615
خطبات محمود ۶۱۵ سال ۱۹۳۸ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں لے گئے۔یہ دونوں تلوار میں لے کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اگر کوئی آگے آیا تو ہم اسے فنا کر دیں گے یا خود مرمٹیں گے۔دیکھو یہ کتنی بڑی فضیلت ہے مگر کیا ہر فضیلت حضرت عمرؓ کے لئے ہی ضروری ہے۔اگر حضرت عمر کی اس فضیلت کو دیکھ کر دوسرے مواقع پر صحابہ کہہ دیتے کہ اب وہ کہاں ہیں۔اب آگے کیوں نہیں آتے؟ تو یہ اعتراض صحیح نہ ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو نیکی کرنے کا موقع دیتا ہے وہ کر لیتا ہے اور جس کو موقع ملے وہ کیوں کی چھوڑے۔اگر مولوی راجیکی صاحب کو یہ خیال آیا تھا کہ میر صاحب نے ایسا مضمون لکھا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کے خلاف ہے تو انہوں نے کیوں اس کا جواب نہ دیا اور انہوں نے یہ کیوں فرض کر لیا کہ اس کا جواب دینا بھی مولوی محمد اسمعیل صاحب کا فرض ہے۔وہ بھی آدمی ہیں اور یہ بھی اور جسے نیکی کی تحریک ہوتی اسے چاہئے تھا کرتا۔پس ج مولوی محمد اسمعیل صاحب پر اعتراض کی کوئی وجہ نہیں۔اس قسم کے خیالات کا اظہار کرنا کہ ایک ہی شخص کے ذمہ ہے کہ وہ سلسلہ کی اصلاح کرے نہایت ہی خطرناک رو ہے اور ضروری ہے کہ میں اس کے خلاف اظہار نا راضگی کروں۔میں تو خلیفہ وقت کے متعلق ایسا خیال کرنا بھی شرک کی سمجھتا ہوں گجا یہ کہ کسی اور مولوی کے متعلق یہ امید رکھی جائے کہ ہر مضمون کا جواب دینا اس کا ہی فرض ہے۔اگر ان کو علم ہوا تھا کہ میر صاحب نے کوئی ایسا مضمون شائع کرایا ہے تو ان کا فرض تھا کی کہ اس کی تردید کرتے اور اگر اس سے جھجکتے تھے کیونکہ بعض وقت آدمی خیال کرتا ہے کہ شاید میرا کی ہی خیال غلط ہو تو ان کو چاہئے تھا مجھے توجہ دلاتے۔معلوم ہوتا ہے انہوں نے خیال کر لیا کہ مجھے علم ہو چکا ہو گا۔مگر کیا وہ سمجھتے ہیں کہ میں عالم الغیب ہوں اور ہر بات کو جانتا ہوں۔اس وقت جو لوگ میری آنکھوں کے سامنے بیٹھے ہیں ان میں سے بیسیوں بعض حرکتیں کر رہے ہوں گے مگر مجھے سامنے کھڑے ہوئے ان کا علم نہیں۔”الفضل میں بیسیوں مضمون ایسے چھپتے ہیں جو میں نہیں پڑھتا۔اگر ان کو خیال آیا تھا تو ، ان مفروضات کی بناء پر وہ کیوں نیکی سے محروم رہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو نیکی کا ایک موقع دیا تھا جود وسروں کو نہیں ملا مگر انہوں نے گنوادیا اور اب وہ موقع مجھے مل گیا ہے اور میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر میر صاحب نے ایسا مضمون لکھا ہے تو وہ غلط ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام