خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 597

خطبات محمود ۵۹۷ سال ۱۹۳۸ پختہ ہے کہ اب کسی کی زبان سے یہ سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت بی کی علیہ السلام شہید نہیں ہوئے ایسا ہی قابل تعجب ہے جیسے کوئی کہہ دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا باپ موجود تھا۔یہ میرا اثر کوئی معمولی نہیں بلکہ نہایت ہی زبردست ہے کیونکہ میں نے قرآن اُس استاد سے پڑھا ہے جس کا یہ عقیدہ تھا کہ انبیاء قتل نہیں ہو سکتے۔پس اگر یہ اثر مجھے پر نہ ہوتا کہ حضرت مسیح موعود کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے ہیں تو لازماً میں بھی اسی بات کا قائل ہوتا کہ کوئی نبی قتل نہیں ہوا کیونکہ مجھے حضرت خلیفہ اول جیسا استاد ملا تھا اور یہ قدرتی بات ہے کہ ایسے ماہر قرآن کی طرف سے جو سبق ملے وہ طبیعت سے نہیں اُتر سکتا مگر باوجود اس کے وہ کون سی چیز تھی جس نے مجھے اس عقیدہ کا قائل نہ ہونے دیا۔وہ یہی چیز تھی کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ اس امر کے قائل ہیں کہ کی حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تو اگر ہمیں ایک اشارہ بھی نظر آ جاتا تو حضرت خلیفہ اول کی سو دلیلیں بھی ہمارے لئے بیکار ہو جاتی تھیں بلکہ سو کیا ہم کہا تج کرتے تھے حضرت خلیفہ اول اگر دس ہزار دلیلیں بھی کیوں نہ دیتے چلے جائیں ہمیں پرواہ نہیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب ہمیں ایک ارشاد مل گیا تو اب ہمارا عقیدہ تو وہی ہو گا اس کے خلاف نہیں ہوسکتا۔حضرت خلیفہ اول نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کم پڑھی تھیں اور مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے پاس بعض کتب کے پروف پڑھنے کے لئے بھجوا دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک شخص نے کہا حضور ! مولوی صاحب تو یہ کام اچھی طرح نہیں کر سکتے۔میر مهدی حسین صاحب یہ کام خوب کرتے ہیں ان کا دیکھنا کافی ہے۔تو آپ نے فرمایا ہم تو اس لئے بھجواتے ہیں کہ مولوی صاحب کو فرصت کم ہوتی ہے۔کتاب پڑھنی مشکل ہوتی ہے۔آپ کی اسی طرح ہماری تحریرات سے واقف ہوتے جائیں گے۔اور اس وجہ سے بعض دفعہ پرانی تحقیق کو آپ پیش کر دیا کرتے تھے اور بعض دفعہ آپ اجتہاد سے کام لے کر ایک فلسفیانہ رنگ اختیار کر لیتے تھے۔مثلاً آپ نے ایک دفعہ ایک شخص کو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت