خطبات محمود (جلد 19) — Page 594
خطبات محمود ۵۹۴ سال ۱۹۳۸ء ایسا مطلب ہو جو ہم نہیں سمجھے ( میں نے ابھی اصل کتاب نکال کر حوالہ نہیں دیکھا ممکن ہے اس کے دیکھنے سے مطلب حل ہو جائے ) آخر کتابوں اور اخباروں میں کتابت کی بیسیوں غلطیاں ہوتی ہیں۔اگر چند غلطیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں بھی ہوگئی ہوں تو ان سے قطعی اور یقینی حوالوں کو کس طرح رڈ کیا جا سکتا ہے۔میں نے تو دیکھا ہے خطبہ جمعہ میں آپ درست کرتا ہے ہوں مگر جب اخبار میں چھپ کر آتا ہے تو کتابت کی بیسیوں غلطیاں اس میں ہوتی ہیں۔ایک دولتی غلطیاں تو ہمیشہ ہوتی ہیں اور بعض دفعہ ہیں ہیں غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔شاید اخبار والے خطبہ پڑھتے نہیں کہ باوجود میری اصلاح کے ان کے کا تب اس قدر غلطیاں کر جاتے ہیں یا پڑھتے تو ہیں مگر غلطیاں درست نہیں کی جاتیں۔بہر حال کتابت کی کئی غلطیاں میرے خطبات میں بھی ہوتی ہیں۔حالانکہ وہ میری نظر سے گزر چکا ہوتا ہے اسی طرح ممکن ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحریر میں بھی کتاب کی غلطی ہوگئی ہو کیونکہ جب دوسرے یقینی اور قطعی حوالے ہمارے پاس موجود ہیں تو ہم اس ایک کی وجہ سے ان تمام حوالوں کو ر ڈ نہیں کر سکتے۔بہر صورت جو حوالہ نہ سمجھ میں آئے اسے اکثریت کے تابع کرنا ہوگا۔پھر صرف حوالوں کا سوال نہیں بلکہ ہم نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے سُنا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے تھے نہ ایک دفعہ بلکہ بار بار اور اب یہ بات ہمارے اس قدر ذہن نشین ہو چکی ہے کہ کسی صورت میں نہیں نکل سکتی۔اگر ہم اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واضح ارشادات کے خلاف چلنے لگیں تو اور مسائل میں بھی تفسیر بالرائے کا غلبہ - ہو جائے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا کام مخفی ہو جائے گا۔کوئی ایک دفعہ کی بات ہو تو شبہ کی گنجائش ہو سکتی ہے مگر یہ بات تو ہم مسلسل اور متواتر سُنتے رہے ہیں کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے ہیں اگر اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کے واضح ارشادات کو ہم اپنی قوت استدلال سے رڈ کرنے لگ گئے تو پھر احمد یت کا کیا باقی رہے گا۔پس میں نے مناسب سمجھا کہ اس امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلا دوں۔اصل مضمون کے متعلق بھی میں انشاء اللہ روشنی ڈالوں گا۔فی الحال میں نے ایک تو اپنی گواہی پیش کر