خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 590

خطبات محمود ۵۹۰ سال ۱۹۳۸ء یہی غلطی کھا کر پیغامیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بن باپ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔وہ کہتے ہیں قرآن کریم میں صاف لکھا ہے۔اِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِّن ذَكَرٍو انْثَى ہم نے تم سب کو مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے۔جب ہر ایک کو مرد اور عورت سے پیدا کیا گیا ہے تو حضرت مسیح علیہ السلام بغیر باپ کے کس طرح پیدا ہو گئے۔ہم ان کو یہی جواب دیتے ہیں کہ اگر کوئی استثناء ثابت ہو جائے تو پھر کلیہ اس مستثنیٰ کے تابع ہوگا اور وہ گلیہ اپنی ذات میں کوئی حیثیت نہیں رکھے گا بلکہ وہ گلیہ مستثنیات کے ساتھ ثابت ہوگا اور اگر کوئی استثناء نہ ہو تو پھر بیشک گلیہ اپنی کی اصلی حالت پر قائم رہے گا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے لَا نَبِيَّ بَعْدِی - ۲۴ اب یہ بالکل درست ہے اور ہم بھی اسے تسلیم کرتے ہیں مگر ہم غیر احمدیوں سے کہتے ہیں تم یہ بھی تو دیکھو کہ آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی استثناء بھی کیا ہے یا نہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نبی کی آمد کا استثناء کیا ہوا ہے جو آپ کی شریعت کا تابع ہو تو لَا نَبِيَّ بَعْدِ ی سے مطلقا ہر قسم کی نبوت کے بند ہونے کا استدلال کرنا کیونکر درست ہو سکتا ہے۔تو خالی گلیے کوئی چیز نہیں ہو ا کرتے بلکہ ان کے ساتھ مستثنیات کو بھی دیکھا جاتا ہے اور اگر مستثنیات ثابت ہوں تو پھر مستثنیات مقدم ہوں گے اور گیے مؤخر ہوں گے۔یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ گلیات دو قسم کے ہو ا کرتے ہیں۔ایک گلیہ سُنت اللہ کا ہوتا ہے اس میں اگر کوئی استثناء سمجھا جائے تو وہ کلیہ کے کی تابع کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ لن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا - ۲۵ سنت الله میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔پس اگر سنت اللہ کا کسی اور بات سے اختلاف ہو جائے تو ہم کہیں گے استثناء کے اور معنے کرو اور سنت اللہ کو اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے دو کیونکہ سنٹ اللہ کبھی نہیں بدلتی لیکن جہاں سنت اللہ نہ ہو وہاں استثناء مقدم ہوگا اور گلیہ مؤخر۔اب اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ سارے انسان دو ہاتھ رکھتے ہیں اور پھر کہتا ہے کہ بعض اندھے بھی ہوتے ہیں ، بعض لنجے بھی ہوتے ہیں تو پہلے گلیہ کو استثناء کے ساتھ ملا کر ہمیں پڑھنا پڑے گا اور اگر ہم اس اصل کو مد نظر نہ رکھیں تو لَا صَلوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ کے ماتحت یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رکوع میں آکر شامل ہو جائے اور سورۂ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی رکعت ہو جاتی ہے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صریح فتوی موجود ہے کہ اس شخص کی جو رکوع میں شامل ہو رکعت