خطبات محمود (جلد 19) — Page 59
خطبات محمود ۵۹ سال ۱۹۳۸ء میں نے کہا کہ یہ کیا بات ہے؟ اتنے کھانے انہوں نے کیوں تیار کئے ہیں؟ اس پر اس نے چپکے سے میرے کان میں کہا کہ آپ اس امر کا یہاں ذکر نہ کریں کیونکہ اس طرح ان کی دل شکنی ہوگی۔یہاں یہ رواج ہے کہ جب کسی کے اعزاز میں دعوت کی جاتی ہے تو خاص طور پر بہت زیادہ کھانے پکائے جاتے ہیں۔پس جو کھانا آپ نے کھانا ہے کھا لیں کچھ کہیں نہیں۔اب یہ بھی دعوت کا ایک طریق ہے۔تو زیادتی میں بھی سادگی کو مدنظر رکھا جاسکتا ہے کیونکہ ایک سے زائد کھانے کے معنے دو بھی ہو سکتے ہیں ، تین بھی ہو سکتے ہیں ، دس بھی ہو سکتے ہیں ، ہمیں بھی۔پس کی ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ سادگی اصل حکم ہے اور ترقہ ایک عارضی اجازت، اور ی عارضی اجازت ہر حالت میں اصل حکم کے تابع رہنی چاہئے۔حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک امیر میرے پاس آیا اور کہنے کی لگا مولوی صاحب ! ہاضمہ کی کوئی اچھی سی دوائی مجھے دیں تا کہ میں کھانا پیٹ بھر کر کھا سکوں۔میری یہ حالت ہے کہ بس لقمہ دو لقمے کھاتا ہوں اور پیٹ بھر جاتا ہے۔آپ فرماتے کہ ایک دن مجھے اس امیر کے دستر خوان پر جانے کا اتفاق ہوا۔میں نے دیکھا کہ کھانے کی چالیس پچاس طشتریاں اُس کے سامنے آئیں۔اُس نے ہر تھالی میں سے ایک دو لقمے لئے اور چکھا کہ ان سب میں سے اچھا کھانا کون سا ہے۔پھر دو چار کھانے جو اسے پسند آئے وہ اس نے الگ کر لئے اور ان میں سے تھوڑے تھوڑے لقمے لینے کے بعد کہنے لگا دیکھئے مولوی صاحب ! اب بالکل کھایا نہیں جاتا۔حضرت خلیفہ اوّل فرماتے تھے کہ میں نے اسے کہا یہ کوئی بیماری نہیں۔کیونکہ جو چکھنے کے لقمے ہیں وہ بھی آپ کے معدہ میں ہی گئے ہیں اور اس سے زیادہ کوئی تندرست آدمی نہیں کھا سکتا۔پس میں اس بارے میں جہاں پھر سادگی کی تاکید کرتا ہوں وہاں میں بعض دوستوں کی متواتر تحریک پر دو استثناء بھی کر دیتا ہوں۔ایک تو عیدوں کی طرح میں جمعہ کا استثناء بھی کرتا ہوں اور اُس دن ایک سے زائد کھانا کھانے کی لوگوں کو اجازت دیتا ہوں۔مگر اسی حد تک کہ اگر اس دن کوئی دوسرا کھانا کھالے تو جائز ہوگا۔یہ نہیں کہ ضرور اُس دن ایک سے زائد کھانے پکائے جائیں اور اس استثناء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اُس دن کئی کئی کھانے پکنے لگ جائیں۔