خطبات محمود (جلد 19) — Page 578
خطبات محمود ۵۷۸ سال ۱۹۳۸ء پس ایسے سلسلہ کا اول نبی اور اس کا آخری خلیفہ قتل نہیں ہو سکتا ورنہ حق مشتبہ ہو جائے۔ہاں درمیان میں اگر کوئی نبی قتل ہو جائے تو اس سے لَو تَقَوَّل کے اصل پر کہ سچا نبی قتل نہیں ہوسکتا زد نہیں پڑتی۔یہی مضمون میں نے بارہا سنا ہے ایک دفعہ نہیں بلکہ متواتر۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة في والسلام کے زمانہ میں جب اپنی تقاریر یا بحث مباحثہ میں ہم نے لَو تَقَوَّلَ والی آیت پیش کرنیکی ہوتی تو ہمیں متواتر یہ سبق دیا جاتا کہ یہ مت کہنا کہ جو نبی قتل ہو جائیں وہ جھوٹے ہوتے ہیں بلکہ یہ کہنا کہ جس مدعی کو دعوی نبوت کے بعد اتنی مہلت ملے جتنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تھی ج وہ ضرور سچا ہوتا ہے۔یہ معنے ہیں جو ہمیں متواتر بتائے جاتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ لَوْ تَقَوَّل کے یہ معنے نہ کرنا کہ جو مارا جائے وہ جھوٹا ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا کہ جو اتنی عمر پائے جتنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی نبوت کے بعد پائی یا اس سے بھی زیادہ بی عمر پائے وہ کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔گویا لبی عمر پانا بچے ہونے کی دلیل ہے۔کسی نبی کا قتل ہو جانا جھوٹے ہونے کی دلیل نہیں جس طرح انگریزی میں ہیمر (HAMMER) کرنا یعنی ہتھوڑے سے کوٹ کوٹ کر کسی چیز کو اندر داخل کرنا بولا جاتا ہے۔اسی طرح بار بار ہمارے ذہنوں میں یہ بات ڈالی جاتی تھی اور ہمیں کہا جاتا تھا کہ اس سے یہ استدلال نہ کرنا کہ کوئی سچا نبی قتل نہیں ہو سکتا بلکہ یہ کرنا کہ دعوی نبوت کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم جتنی عمر اگر کوئی مدعی نبوت پالے تو وہ کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔گویا کسی مدعی کا لمبی عمر پانا اس کے بچے ہونے کی دلیل ہے۔کسی کا مارا جانا اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل نہیں۔میر مهدی حسین صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی ہیں وہ بھی لکھتے ہیں: میں یہ بیان مؤکد بہ قسم حضرت بیٹی علیہ السلام کے قتل کی نسبت جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کی مجلس میں سُنا ہے لکھ کر دیتا ہوں۔آپ نے فرمایا: بی علیہ السلام کے قتل کی بابت یہ سمجھنا چاہئے کہ سلسلہ کا اوّل اور آخر نبی قتل نہیں ہوتا۔اگر ایسا ہو تو کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور مصیبت حد سے بڑھ جاتی ہے۔درمیانی انبیاء اور خلفاءاگر قتل ہوں تو اس قدر نقصان نہیں ہوتا۔ابھی بعض اور گواہیاں بھی میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے لے رہا ہوں کی