خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 573

خطبات محمود ۵۷۳ سال ۱۹۳۸۔اگر اس کے یہی معنے ہیں تو اس دوسرے حصہ کے کیا معنے ہوں گے۔وہ حصہ کونسا تھا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا ہاتھ رکھا، یہ مجھے یاد نہیں رہا۔میں قیاساً کہہ سکتا ہوں کہ غالباً کی وہ آیت کا وہ آخری حصہ ہوگا جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت بیبی" پر اس دن بھی سلامتی ہوگى يوم يبعث حیا جس دن وہ دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔مطلب یہ کہ اگر آپ پر سلامتی ہونے کا یہی مطلب ہے کہ آپ قتل سے محفوظ رہے تو قیامت کے دن آپ پر سلامتی ہونے کے کیا معنے ہیں۔کیا قیامت کے دن بھی آپ کے قتل کی کوئی دشمن تدبیر کرے گا کہ اس دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی آپ کے لاحق حال ہو گی۔آخر اگر سلامتی کا اس جگہ یہی مفہوم لیا جائے کہ دشمن کی تدابیر قتل کا اس میں رڈ ہے تو اس کے معنے یہ بنیں گے کہ جس دن حضرت بیچی پیدا ہوئے اس دن بھی وہ قتل سے محفوظ رہیں گے۔جس دن وہ فوت ہوں گے اس دن بھی وہ قتل نہیں ہوں گے اور جب قیامت کے دن جی اُٹھیں گے تو اس دن بھی قتل نہیں ہوں گے۔اب کیا قیامت کی کے دن بھی وہ قتل ہو سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے متعلق یومَ يُبْعَثُ حَيًّا پر بھی سلامتی کا وعدہ کرنا پڑا۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان معنوں کو ر ڈ کیا اور فرمایا کہ اس کی کے یہ معنے غلط ہیں۔پس گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس وقت جو دلیل بیان فرمائی وہ مجھے یاد نہیں مگر میں قیاساً کہہ سکتا ہوں کہ آپ کا اشارہ وَسَلْمُ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيَّان کے آخری حصہ کی طرف تھا۔سلم عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِد کے متعلق تو پھر بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ حضرت یحیی علیہ السلام پیدا ہوتے ہی نہیں مر جائیں گے بلکہ کچھ عرصہ دنیا میں زندہ رہیں گے۔مگر يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا کے کیا معنے بنیں گے۔کیا اس دن اور لوگ مارے جائیں گے کہ حضرت یحیی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ خاص طور پر بچائے گا۔جب اور لوگ بھی اس دن زندہ ہوں گے تو حضرت یحیی علیہ السلام کی زندگی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی خاص ندرت اپنے اندر کیا رکھتی ہے۔در حقیقت اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ مین تین مختلف زمانوں کو بیان کیا ہے مگر لوگوں نے غلطی سے اس کا مفہوم کچھ کا کچھ سمجھ لیا۔دراصل انسانی زندگیاں تین ہوتی ہیں۔ایک زندگی شروع ہوتی ہے انسانی پیدائش سے اور ختم ہوتی ہے انسانی موت پر۔اس زندگی کو حیاة الدنیا کی