خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 550

خطبات محمود ۵۵۰ سال ۱۹۳۸ میں نے بجھا دی ہے“ یہ پیشگوئی بتاتی تھی کہ ایک زمانہ میں میرے اوپر دشمن کی طرف سے اعتراضات ہونے والے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔میں نے اس آگ کو جومحمود کے کپڑوں کو لگی ہے بجھا دیا ہے۔یعنی میری پیشگوئیوں اور میری دعاؤں کی وجہ سے خدا تعالی دشمن کو نا کام کرے گا اور اسے اپنے منصوبوں میں ناکام و نامراد رکھے گا۔دشمن بے شک آگ لگائے گا مگر انجام کار وہ آگ بجھا دی جائے گی۔اگر خالی بجھ گئی کے الفاظ ہوتے تب بھی دشمن کہہ سکتا تھا کہ انہوں نے اپنی تدبیروں اور عقلوں سے کامیابی حاصل کر لی۔یہاں بجھ گئی“ کے الفاظ نہیں بلکہ یہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بجھا دی ہے۔اس سے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ آگ کسی تدبیر یا کسی عقل کی وجہ سے نہیں بجھی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں اور آپ کی پیشگوئیوں نے اس آگ کو بجھایا ہے۔پس یقیناً جو شخص آگ لگانے والا ہے وہ سلسلہ کا دشمن ہے۔اگر یہ آگ سلسلہ کے مفاد اور اس کی ترقی کے لئے ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آگ کو بجھا دیتے۔کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اپنے سلسلہ کی خیر خواہی مد نظر نہیں تھی ؟ مگر آپ کا اس آگ کا بجھا نا بتاتا ہے کہ آگ لگانے والے سلسلہ کے دشمن ہیں۔پس اگر جو لوگ اعتراض کرتے ہیں وہ حق پر ہوتے اور جنہوں نے میرے خلاف فتنہ وفساد کی آگ بھڑ کا رکھی ہے وہ صداقت پر ہوتے تو بجائے یہ الفاظ ہونے کے کہ ”میں نے بجھا دی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرماتے کہ میں نے اٹھ کر محمود کے کپڑوں کو آگ لگا دی ہے۔مگر آپ یہ نہیں فرماتے بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ آگ لگانے والے اور ہیں اور بجھانے والا میں ہوں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کے فعل کو مٹانے والے ہیں اور جس فعل کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مٹانے والے ہوں وہ یقیناً سلسلہ کے خلاف ہوگا۔مگر جو مضمون میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ جو شخص ایک صداقت پر اعتراض کرتا ہے اسے لازماً دوسری صداقتوں پر بھی اعتراض کرنا پڑتا ہے اور جو ایک راستباز پر اعتراض کرتا ہے اسے لازماً