خطبات محمود (جلد 19) — Page 53
خطبات محمود ۵۳ سال ۱۹۳۸ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض لوگ تھے تو کیا ایسے لوگوں کے علاج کیلئے کوئی چ انتظام ہونا چاہئے یا نہیں ؟ اور قرآن کریم کہتا ہے کہ ایسے لوگ ہوتے رہیں گے۔پس صاف بات ہے کہ ان کے لئے معالج بھی آتے رہیں گے۔میں نے جب یہ بات اس سے کہی کہ قرآن کریم کی جو آیت چاہو لے لو اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہوتی ہے تو اس یقین کے ساتھ کہی تھی کہ جب قرآن کریم نبوت کی تائید کرتا ہے تو ضرور اس کی ہر آیت سے نبی کی صداقت ثابت کی جاسکتی ہے اس لئے وہ جو آیت پڑھتا میں اسی سے ثابت کر دیتا۔وہ اگر ورثہ کی آیت پڑھتا تو بھی میں اسی سے ثابت کر دیتا کیونکہ جو کلام نبوت کی تائید کرے گا اس سے ہر نبی کی صداقت ثابت ہوگی اس لئے میں نے جب یہ بات اس کے سامنے بیان کی تو مجھے اس میں کوئی محبہ نہیں تھا اور میرے دل میں اس بات کا پورا پورا یقین تھا لیکن جب اپنے دل میں یقین نہ ہو تو بڑی سے بڑی بات بھی غیر مفید ہوگی۔ان ہماری جماعت میں ایک بڑے مولوی تھے جو عالم تھے مگر بولنے میں وہ کچے تھے۔میں نے خود بھی ان کو کئی مرتبہ گفتگو کرتے سنا۔کوئی اعتراض کرتا تو وہ ہنس کر کہہ دیا کرتے تھے کہ ”لے ہن اے اعتراض کر دتا۔یعنی لواب یہ اعتراض کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب وفات مسیح کیلئے تمہیں آیات پیش فرما ئیں تو وہ بہت خوش ہوئے۔ایک شخص سے ال کی وفات مسیح کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی۔اس نے پوچھا کہ کیا قرآن کریم کی کسی آیت سے بھی وفات مسیح کا ثبوت ملتا ہے، وہ کہنے لگے کسی ایک آیت سے کیا تمیں آیات سے یہ ثابت ہے۔اس نے کہا اچھا کوئی ایک پیش کریں۔انہوں نے ایک آیت پیش کی۔اس نے اس پر کوئی اعتراض کیا تو کہنے لگے اچھا اسے چھوڑو اور لو اور دوسری آیت پیش کر دی۔اس نے اس پر بھی ایک اعتراض کر دیا۔تو کہنے لگے اچھا لو اور آیت سن لو۔اس طرح سب کی سب آیات ختم ہو گئیں اور وہ منہ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔تو جب انسان خود یقین سے بات پیش نہ کرے کی دوسرے پر اس کا اثر نہیں ہوتا۔یقین سے ہی سب کا میابی ہوتی ہے۔دیکھو یقین تو کتے اور بتی کا بھی کام آجاتا ہے۔گتا ، ہلکی اور شیر وغیرہ وحشی جانور لڑتے بہت کم ہیں۔صرف غوں غوں کر کے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔اور پھر ایک ڈر کر چلا جاتا ہے۔وہ غوں غوں سے ایک دوسرے کے۔