خطبات محمود (جلد 19) — Page 529
خطبات محمود ۵۲۹ سال ۱۹۳۸ء جو اس وقت موجود تھے سناتے ہیں کہ عیسائیوں کے لئے سخت مشکل پیش آگئی اور انہوں نے چوری چھپے ان اندھوں ، ٹولوں اور لنگڑوں کو ایک ایک کر کے غائب کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ ایک بھی ان میں سے باقی نہ رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے جواب میں لکھوایا کہ یہ دعوی کہ حضرت مسیح اندھوں کو آنکھیں دیا کرتے تھے،ٹولوں اور لنگڑوں پر ہاتھ پھیرتے اور وہ اچھے ہو جاتے تھے ان معنوں میں کہ وہ ظاہری اندھوں کو بینا کیا کرتے تھے یا ظاہری ٹولوں اور لنگڑوں کو تندرست کر دیا کرتے تھے عیسائی دنیا کا ہے اور حضرت مسیح انجیل میں کی یہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا تو وہ تمام وہ معجزے دکھا سکے گا جو میں دکھاتا ہوں یا پس آپ نے فرمایا تم لوگ جو اس وقت مسیح کی طرف سے نمائندہ بن کر آئے ہو تم میں کم از کم ایک رائی کے دانہ کے برابر تو ضرور ایمان ہونا چاہئے ورنہ تم نمائندے کیسے ہو سکتے ہو بلکہ حق یہ ہے کہ تم میں ایک رائی کے دانہ سے بہت زیادہ ایمان ہوگا کیونکہ تم معمولی عیسائی نہیں بلکہ عیسائیوں کے پادری ہو اور اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برا بر بھی ایمان نہیں تو تم مسیح کے نمائندے نہیں ہو سکتے ، اس صورت میں تو تم بے ایمان ہو گے اور اگر تم میں کم از کم ایک رائی کے دانہ کے برابر ایمان موجود ہے تو ہم آپ کا شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ آپ لوگوں نے ہمیں اس تکلیف سے بچا لیا کہ ہم خودان اندھوں ، کولوں اور لنگڑوں کو اکٹھا کر کے لاتے اور آپ سے کہتے ہیں کہ انہیں اچھا کر دیں ، اب یہ آپ کی کوشش سے خود ہی حاضر ہیں آپ ان پر ہاتھ پھیریں، یا پھونک ماریں اور انہیں اچھا کر کے دکھا دیں۔دنیا کو خود بخو د معلوم ہو جائے گا کہ واقع میں آپ مسیح کے بچے پیرو ہیں اور انجیل میں ایمان اور صداقت کا جو معیار بتایا گیا تھا اس پر آپ پورے اُترتے ہیں کہتے ہیں۔جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ جواب لکھوانا شروع کیا تو عیسائیوں نے ان اندھوں کولوں اور لنگڑوں کو کھسکا نا شروع کر دیا یہاں تک کہ اس پر چہ کے سناتے وقت وہ سب اندھے، کو لے اور لنگڑے غائب ہو گئے حالانکہ یہ صاف بات ہے اور انجیل میں بھی موجود ہے کہ حضرت مسیح سے یہود ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں کوئی معجزہ دکھاؤ۔اگر واقع میں وہ اندھوں کو آنکھیں دیا کرتے تھے ، کولوں اور لنگڑوں پر ہاتھ پھیرتے اور وہ اچھے ہو جاتے تھے تو