خطبات محمود (جلد 19) — Page 523
خطبات محمود ۵۲۳ سال ۱۹۳۸ء گے بھی یا نہیں۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ پنشن کے بعد ایسے بیمار پڑتے ہیں کہ اس قابل کی ہی نہیں رہتے۔یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے گا۔اپنی نیت کا بدلہ وہ ضرور پائیں گے مگر ترقیات سے محروم تو رہ ہی جائیں گے۔پنشن تو گورنمنٹ اسی وقت دیتی ہے جب اچھی طرح نچوڑ لیتی ہے اور بجھتی ہے کہ اب ہمارے کام کا نہیں رہا۔پھر بعض لوگ کاروبار کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ اگلے سال جائیں گے، پھر اس سے اگلے سال کا ارادہ کر لیتے ہیں حالانکہ دنیا کے کام تو ختم ہوتے ہی نہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی ہو تو کر ہی لینا چاہئے۔میں جب تعلیم کے لئے مصر گیا تو ارادہ تھا کہ حج بھی کرتا آؤں گا مگر یہ پختہ ارادہ نہ تھا کہ اسی سال حج کروں گا۔یہ بھی خیال آتا تھا کہ واپسی پر حج کرلوں گا جب میں ممبئی پہنچا تو وہاں نا نا جان صاحب مرحوم بھی آملے وہ براہِ راست حج کو جا رہے تھے اس پر میرا بھی ارادہ پختہ ہو گیا کہ اسی سال ان کے ساتھ حج کرلوں۔جب پورٹ سعید پہنچے تو میں نے رویا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں اور وہ فرماتے ہیں کہ اگر حج کی نیت ہے تو کل ہی جہاز میں سوار ہو جاؤ کیونکہ یہ آخری جہاز ہے۔گوج میں ابھی دس پندرہ روز کا وقفہ تھا مگر فاصلہ بھی وہاں سے قریب ہے اس لئے خیال کیا جا تا تھا کہ ابھی کئی جہاز حاجیوں کے مصر سے جدہ جائیں گے۔میرے ساتھ عبدالحئی صاحب عرب بھی تھے وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اگلے جہاز پر چلے جائیں گے مگر مجھے چونکہ حضرت کی مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اگر نیت ہے تو اسی جہاز سے جاؤ ورنہ جہازوں میں روک پیدا ہو جائے گی اس لئے میں نے پختہ ارادہ کر لیا۔وہاں جو ایک دو اصحاب واقف ہوئے تھے وہ بھی کہنے لگے کہ ابھی تو کئی جہاز جائیں گے قاہرہ اور اسکندریہ وغیرہ دیکھتے جائیں اتنی دور آکر ان کو دیکھے بغیر چلے جانا مناسب نہیں مگر میں نے کہا کہ مجھے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کل نہ جانے سے حج سے رہ جانے کا خطرہ ہے اس لئے میں تو ضرور جاؤں گا۔چنانچہ اس جہاز ران کمپنی سے گورنمنٹ کا کوئی جھگڑا تھا اور اس نے ایسی صورت اختیار کر لی کہ وہ جہاز کی آخری ثابت ہوا اور کمپنی والے اس سال اور جہاز حاجیوں کے نہ لے گئے۔حج کے بعد جب میری نیت ہوئی کہ مصر چل کر عربی پڑھوں تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ قانون کے مطابق اب تین ماہ تک آپ مصر میں داخل نہیں ہو سکتے۔اتنے میں مکہ میں ایسا ہیضہ پھیلا کہ ایسا نظارہ بہت