خطبات محمود (جلد 19) — Page 504
خطبات محمود ۵۰۴ سال ۱۹۳۸ء وہ خلافت کا بھی قائل ہے تو کہتے ہیں ہمارے بھائیوں کو غلطی لگی ہے وہ منافق نہیں ہے وہ تو تمام عقائد کو تسلیم کرتا ہے حالانکہ قرآن کریم کہتا ہے فِي قُلُوبِهِمْ قَرَضٌ ہوں تو وہ مؤمن ہی ہیں مگر ان کے دلوں میں ایک مرض ہے۔كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مِّشَوْا فِيهِ جِب کبھی سہولت اور آرام کا زمانہ ہوتا ہے تو آگے آگے چل دیتے ہیں۔نعرہ تکبیر بلند کرتے ہیں۔وإذا أظلم عَلَيْهِمْ قَامُوا ، مگر جہاں کوئی امتحان کا وقت آیا اور انہوں نے پیچھے ہٹنا کی شروع کر دیا قاموا وہ اُس وقت کھڑے ہو جاتے ہیں وہ کہتے ہیں ہمارا دل نہیں مانتا کہ ان قربانیوں سے کوئی فائدہ ہو۔ایسے انسان کو اگر عقائد کے لحاظ سے تم دیکھو گے تو ضرور دھوکا کھاؤ گے اور دوسرں کے لئے بھی ٹھوکر کا موجب بنو گے بلکہ میں کہتا ہوں ایمان ہی نہیں عمل کو بھی اگر دیکھو گے تو تم یہ اندازہ نہیں لگا سکو گے کہ یہ منافق ہے۔وہ نمازیں بھی پڑھے گا ، وہ روزے بھی رکھے گا ، وہ زکوۃ بھی دے گا ، وہ حج بھی کرے گا ، وہ چندے بھی دے گا ، وہ تبلیغ بھی کرے گا، وہ قربانیوں کے مطالبات میں بھی شامل ہوگا ، وہ جلسوں میں تقریریں بھی کرے گا ، اسی طرح وہ عقائد میں ہمارے ساتھ متحد ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کاماً مور سمجھے گا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین یقین کرے گا ، قرآن کریم کو سچا سمجھے گا ، خدا کو واحد اور لاشریک تسلیم کرے گا۔غرض عقیدہ بھی اُس کا وہی ہو گا جو تمہارا ہے اُس کا عمل بھی وہی ہوگا جو تمہارا ہے مگر جو چیز اُس کے اندر منافقت ثابت کر رہی ہوگی وہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے دشمنوں کا دوست ہوتا ہے، وہ منافقوں سے محبت اور پیار رکھتا ہے اور اُن کی عزت اُسے اِس قدر منظور ہوتی ہے کہ وہ مؤمنوں کے تریاق کو پاخانہ سمجھتا مگر منافقوں کے پاخانہ کو تریاق سمجھتا ہے۔ایسے منافق کو اگر تم عقائد سے پرکھنا چاہو تو کیا تم پر کھ سکتے ہو؟ یا ایسے منافق کو تم اعمال سے پرکھنا چا ہو تو کیا تم اُس کی منافقت کو پرکھ سکتے ہو؟ سوائے اس کے اور کسی چیز سے معلوم نہیں کر سکتے کہ وہ منافقوں کی حمایت کرتا ہے، وہ منافقوں کا دوست ہوتا ہے اور منافقوں کی بُری باتیں مؤمنوں میں پھیلا تا اور مؤمنوں کی آراء منافقوں تک پہنچاتا ہے ایسا شخص عقیدے کے لحاظ سے منافق نہیں مگر لا تركنوا إلى الذينَ ظَلَمُوا والا منافق ضرور ہے۔وہ خود ظالم نہیں مگر ظالم کا معین اور مددگار ہے۔اُن ظالموں کا معین و مددگار جن کے متعلق خدا تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ