خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 50

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء نے یہ واقعہ مجھے سنایا اُس وقت تک وہ غیر احمدی ہی تھے اور اپنے عقائد پر پختہ تھے لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے ان کا دل کھول دیا اور وہ احمدی ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلص احمدی ہیں۔اب دیکھو وہ جس نتیجہ پر پہنچے وہ وہ نہیں تھا جس پر شروع میں غیر احمدی پہنچے تھے۔یہ تغیر ان کے اندر در حقیقت اُس مخفی اثر سے پیدا ہوا جو احمدیوں کے دلائل کی وجہ سے تعلیم یافتہ مسلمانوں میں پیدا ہورہا تھا اور روز بروز پیدا ہوتا جا رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عام طور پر نبوت کی کے مسئلہ میں ہی ہماری مخالفت زیادہ ہے۔مگر اس میں بھی شک نہیں کہ تعلیم یافتہ طبقہ میں یہ خیال بھی پیدا ہو رہا ہے بلکہ اس طبقہ کی مخالفت کی بنیاد ہی اب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آہی نہیں سکتا کیونکہ اگر کوئی آ سکتا ہے تو وہ نبی بھی ہوسکتا ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ کوئی آہی نہیں سکتا۔مامور ومجددیا نبی کا کوئی سوال ہی نہیں ہم کسی کی آمد کو کی بھی تسلیم نہیں کرتے۔اور حقیقتا عقلی طور پر یہی ایک پہلو ہے جو ان کے بچاؤ کا ہوسکتا ہے کیونکہ جب کوئی کہے کہ مرزا صاحب کا نبوت کا دعویٰ غلط ہے، وہ مجدد ہو سکتے ہیں تو ہماری طرف سے جھٹ یہ جواب دیا جاتا ہے کہ کیا مجد د بھی جھوٹ بول سکتا ہے۔اس پر ساری مجلس ہنس پڑتی ہے کہ اس نے کیسی پاگل پن کی بات کی کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ کوئی آسکتا ہے تو پھر یہ کہنا کہ جو آیا ہے اس کا نبوت کا دعویٰ غلط ہے، ایک بیہودہ بات ہے کیونکہ جو آئے گا وہ ضرور سچ بولے گا۔اگر کوئی شخص یہ مان لے کہ حضرت مرزا صاحب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو پھر آپ جو دعوی کریں وہ ماننا پڑے گا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فتح اسلام اور توضیح مرام کتابیں لکھیں تو حضرت خلیفتہ المسیح الاول کا کوئی دوست ان میں سے کسی کتاب کا کوئی پروف لے گیا اور کہنے لگا کہ اب نورالدین مرزا صاحب کو چھوڑ دے گا کیونکہ اور تو خواہ کچھ ہوا سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت ہے اور مرزا صاحب نے اس میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔جب یہ کتاب میں نے سامنے رکھی وہ فوراً مرزا صاحب کو چھوڑ دے گا۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ وہ شخص ایک جتھا بنا کر میرے پاس آیا۔سب لوگ بیٹھ گئے۔میں نے بھی سمجھا کہ آج کوئی خاص بات ہے جو یہ سب لوگ اکٹھے ہو کر آئے ہیں۔