خطبات محمود (جلد 19) — Page 485
خطبات محمود ۴۸۵ سال ۱۹۳۸ء ہر قسم کے رخنوں سے محفوظ رکھنے کا نام ایمان ہے۔بے شک مؤمنوں میں بھی بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں مگر وہ ان کی نیکیوں کے مقابلہ میں نہایت قلیل ہوتی ہیں اور ان کے صدق کے اعمال بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن منافق اگر چندے بھی دے گا تو منافقانہ طور پر اور اگر نمازیں بھی پڑھے گا تو منافقانہ طور پر جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فويل للمُصَدِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونن کہ ان نماز پڑھنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے جو حقیقت نماز سے غافل رہتے ہیں اور صرف دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں۔اب اس جگہ یہ مراد نہیں کہ وہ نماز چھوڑ دیتے ہیں بلکہ الَّذِينَ هُمْ يُرَارُونَ کہہ کر بتا دیا کہ ہماری یہ مراد ہے کہ وہ دکھلاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں۔یعنی اُن کا نمازوں سے یہ مقصد نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے بلکہ یہ مقصد ہوتا ہے کہ لوگ اُنہیں نمازی سمجھیں اور اُن کی شرارتوں پر پردہ پڑا ر ہے۔تم بیشک بعض دفعہ یہ سمجھ لیتے ہو کہ یہ تو بڑی لمبی نمازیں پڑھنے والے ہیں یہ منافق کس طرح ہو سکتے ہیں مگر ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ بے شک یہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر ان نمازوں کا اُن کے دلوں پر کوئی اثر نہیں۔یہ محض دکھاوے کی نمازیں ہیں اور غفلت سے مراد بھی نماز کو چھوڑ دینا نہیں بلکہ حقیقت نماز سے عاری ہو کر نماز پڑھنا ہے۔یہی حال چندے کا ہے۔بے شک چندہ دینا ایمان کی ایک علامت ہے۔مگر سورۃ بقرہ میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگ چندے دیتے ہیں مگر ریاء کے لئے اور وہ چندہ دینے کے باوجود منافق ہوتے ہیں۔اگر چندہ کا دینا ہی ایمان ہوتا ، اگر نمازیں پڑھنا ہی انسانی ایمان کی علامت ہوتی تو قرآن کیوں کہتا کہ بعض نمازیوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے اور بعض چندہ دینے کے با وجود منافق ہوتے ہیں۔صاف معلوم ہوا کہ بعض چندہ دینے والے بھی منافق ہوتے ہیں اور بعض نمازیں پڑھنے والے بھی منافق ہوتے ہیں۔چندے دینے والے بھی منافق ہوتے ہیں جو ریاء کے لئے چندہ دیتے ہیں اور نمازیں پڑھنے والے وہ منافق ہوتے ہیں جو کسی دُنیوی مفاد یا عزت و مرتبت کے حصول کے لئے نمازیں پڑھتے ہیں۔میں نے کئی ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہیں خفا ہو کر اگر ذرا ڈانٹا جائے تو وہ باقاعدگی سے نمازیں پڑھنے لگ جائیں گے، زیادہ چندے دینے شروع کر دیں گے اور یوں معلوم ہوگا کہ وہ بڑے مخلص ہیں مگر جب دیکھیں گے کہ اب