خطبات محمود (جلد 19) — Page 484
خطبات محمود ۴۸۴ سال ۱۹۳۸ء ممکن ہے کہ وہ اور حربے تو استعمال کرے مگر منافقت کے حربہ کو استعمال نہ کرے۔یہ حربہ تو ضرور استعمال کرے گا اور اگر دوسری جگہ وہ اس حربہ کو اتفاقی چلاتا ہے تو نبیوں کی جماعت میں منظم طور پر چلاتا ہے۔اس تمہید کے بعد میں بتانا چاہتا ہوں کہ منافق کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ہماری جماعت کو منافقین کے متعلق جو دھوکا لگا ہوا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ منافق کی تعریف نہیں سمجھتے۔بسا اوقات جو تعریف ان کے ذہن میں ہوتی ہے وہ اور ہوتی ہے اور منافق کی تعریف اور ہوتی ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دھوکا کھا جاتے ہیں اور منافق کو پہچان نہیں سکتے۔کئی لوگ خیال کرتے ہیں کہ منافق شائد نمازیں نہیں پڑھتے اور اسی وجہ سے جب کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ منافق ہے تو کہتے ہیں وہ منافق کس طرح ہو سکتا ہے وہ تو بڑی نمازیں اور تہجد پڑھا کرتا ہے۔حالانکہ یہ تو کوئی بات نہیں۔ایک نمازیں پڑھنے والا بھی منافق ہوسکتا ہے۔ایک تہجد پڑھنے والا بھی منافق ہو سکتا ہے، اور ایک ذکر الہی کرنے والا بھی منافق ہو سکتا ہے۔پھر بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ منافق شاید چندے نہیں دیتے اور اس وجہ سے جب انہیں کہا جائے کہ فلاں منافق ہے تو کہتے ہیں وہ منافق کس طرح ہو سکتا ہے معلوم ہوتا ہے تمہیں غلطی لگی ہے وہ تو بڑے چندے دیا کرتا ہے۔حالانکہ منافق کی علامت یہ بھی ہے کہ وہ نفاق کے ساتھ ساتھ چندے بھی دیتا ہے تا اُس کے افعال پر پردہ پڑا رہے اور اگر کوئی اعتراض کرے تو دوسرا اُسے یہ کہہ کر خاموش کرا سکے کہ یہ تو چندے دیا کرتا ہے، یہ کس طرح منافق ہو سکتا ہے۔حالانکہ ایمان کسی ایک عمل کا نام نہیں بلکہ مجموعہ اعمال کا نام ایمان ہے۔مگر تم ایک بات دیکھتے ہو اور کہتے ہو چونکہ وہ نمازیں پڑھتا ہے یا چونکہ وہ سچ بولتا ہے اس لئے وہ منافق نہیں ہوسکتا حالانکہ اول تو تمہیں کیا پستہ وہ بیچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔دوسرے بعض ہوشیار لوگ ہوتے ہیں جو کئی موقعوں پر سچ بول کر کے اپنی صداقت کا لوگوں پر اثر ڈالتے ہیں اور پھر در پردہ فتنہ وفساد بھی کرتے رہتے ہیں۔وہ بیچ اس لئے نہیں بولتے کہ انہیں سچ سے محبت ہوتی ہے بلکہ اس لئے سچ بولتے ہیں کہ ان کے اور جھوٹوں پر پردہ پڑا ر ہے۔تو ایمان اس بات کا نام نہیں کہ نمازیں پڑھ لیں یا روزے رکھ لئے یا حج کر لیا یا زکوۃ دے دی یا سچ بول لیا بلکہ چاروں جہت سے اپنے ایمان کے محل کو