خطبات محمود (جلد 19) — Page 361
خطبات محمود ۳۶۱ سال ۱۹۳۸ء خواہ اچھے ہوں یا برے، بدیاں ہوں یا نیکیاں ، انسانی قلب پر جو اثر پیدا کرتے ہیں وہ سے ظاہری حالات کے مطابق نہیں کرتے بلکہ اور بہت سے متعلقہ امور ہوتے ہیں جن کی وجہ انسان ان سے زیادہ یا کم متاثر ہوتا ہے۔قدیم عربی زبان میں اسے انفعال یا تاثر کہتے ہیں۔گویا ہر فعل کے مقابلہ میں ایک حرکت ہماے دل اور دماغ میں پیدا ہوتی ہے۔نئی عربی میں اسے رد العمل انگریزی میں ری ایکشن اور اُردو میں بھی جدید عربی کی نقل میں رد عمل کہتے ہیں اور یہ رد عمل ہر فعل کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔تم اگر کسی جگہ کھڑے ہو اور تمہارا کوئی دوست تمہارے پیٹ کی طرف یک دم اپنی انگلی زور سے لے آئے تو باوجود یہ جاننے کہ وہ تمہارا دوست ہے اور باوجود یہ جاننے کے کہ اس کے ہاتھ میں چا تو نہیں، تمہارا پیٹ کچھ پیچھے کو کھنچ جائے گا اور یہ جواب ہوگا کہ جو طبعی طور پر تمہارا پیٹ دے گا۔اسی طرح جب تم کسی کے منہ سے کوئی بات سنو گے تو اس کے مقابلہ میں تمہارے دل میں ایک اثر پیدا ہوگا۔بعض دفعہ وہ اثر اچھا ہوگا اور بعض دفعہ بُرا۔اگر بُرا اثر ہے تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ تم اسے ہر صورت میں بُرا سمجھتے ہو یا بعض صورتوں میں اور اگر اچھا اثر ہے تو پھر بھی یہ دیکھا جائے گا کہ تم اسے ہر صورت میں اچھا سمجھتے ہو یا بعض صورتوں میں اسی طرح اگر تم کسی فعل کو برا سمجھتے ہو تو یہ دیکھا جائے گا۔کہ اس کے نتیجہ میں تمہارے دل میں غصہ پیدا ہوتا ہے یا نفرت پیدا ہوتی ہے یا رحم پیدا ہوتا ہے اور اگر تم کسی فعل کو اچھا سمجھتے ہو تو باوجود اچھا سمجھنے کے تمہارے دل میں محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں یا نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔یہ رد عمل کی مختلف حالتیں ہیں جو انسانی قلب میں پیدا ہوتی ہیں۔کبھی کوئی حالت ہوگی اور کبھی کوئی۔یہ نہیں ہوگا کہ ہمیشہ ایک اثر پیدا ہو بلکہ مختلف برے اعمال کے نتیجہ میں مختلف اثرات پیدا ہوں گے۔مثلاً ایک شخص بھوکا مر رہا تھا اس نے کسی دوسرے شخص کی روٹی اٹھا کر کھالی۔اب یہ چوری ہے جو اُس نے کی اور اُس کا یہ فعل بہر حال بُرا ہے مگر اس چوری کا ذکر سن کر تمہارے دل میں صرف غصہ نہیں بلکہ رحم بھی پیدا ہوگا کیونکہ اس کا محرک ایک مجبوری تھی۔یعنی چونکہ وہ بہت تنگ حال تھا اس لئے مجبور ہو کر اس نے دوسرے کی روٹی کھالی۔پس جو خارج میں افعال پیدا ہوتے ہیں۔ان کا جو جواب دل میں پیدا ہوتا ہے وہ مفرد نہیں بلکہ مرتب ہوتا ہے اور بہت سی وجوہات سے مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ا